کیفے، کافی اور غلام علی

عمیر ملک

December 6, 2012

Share Article

رات کے 8 کا وقت طے تھا لیکن میں ذرا تاخیر سے نکلا اور تقریبا آٹھ بیس پہ طے شدہ کیفے میں داخل ہوا۔ وقت اتنا نہیں ہوا تھا لیکن دسمبر شروع ہو چکا تھا اور 5 بجتے ہی ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے 11 بج رہے ہیں۔ یہ کیفے ساتھ والی گلی میں ہی تھا لیکن اس سے پہلے کبھی ادھر جانے کا اتفاق نہیں ہوا تھا۔ کیفے میں داخل ہوتے ہی میں نے ایک طائرانہ سی نگاہ ڈالی۔ دائیں طرف ایک بڑی سے میز کے گرد پانچ چھے جرمن بیٹھے تھے۔ تقریبا سب ہی ادھیڑ عمر اور بڑھاپے کے درمیان تھے۔ جس شہر میں میں رہتا ہوں، اس کی زیادہ آبادی اسی رینج میں ہے۔ ذرا آگے ایک چھوٹی میز کے گرد دو لڑکے اور ایک لڑکی بیٹھے تھے۔ میری اجتماعی ہیلو پہ سب نے ایک ساتھ میری طرف دیکھا اور ان تینوں کے علاوہ باقی سب اپنی باتوں میں پھر سے مشغول ہو گئے۔ یعنی کہ مجھے اسی طرف جانا تھا۔ میں نے سب سے باری باری ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کرایا۔ تینوں نے اپنے نام بتائے جو کہ اگلے ہی لمحے مجھے بھول بھی گئے۔ میں نے اپنا کوٹ، مفلر اور اونی ٹوپی اتاری اور ایک کرسی گھسیٹ کر ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔ سب میری طرف ہی متوجہ تھے، میں نے بیٹھتے ہی ذرا تفصیل سے اپنے بارے میں بتایا اور ان سے بھی ان کا تفصیلی تعارف دریافت کیا۔ ہم لوگ ایک کمیونٹی کی میٹنگ کے سلسلے میں اکٹھے ہوئے تھے۔ دائیں طرف والا حال ہی میں اپنی تعلیم سے فارغ ہوا تھا اور آجکل کسی کمپنی میں کام کر رہا تھا۔ بائیں طرف والا ایک فیکٹری میں ملازم تھا اور سامنے بیٹھی لڑکی سائیکالوجی میں ماسٹرز کے بعد قریبی شہر میں ملازمت شروع کرنے کا ارادہ رکھتی تھی۔ ہم سب انگریزی میں باتیں کر رہے تھے اور وہ تینوں حیران کن حد تک اچھی انگریزی بول رہے تھے۔ اتنی میں کیفے کا مالک میرے قریب آیا اور پوچھا کہ آپ کیا پئیں گے؟ میں نے ٹیبل پہ نظر دوڑائی، دو کے سامنے کافی کے کپ پڑے تھے جبکہ ایک کے سامنے بیئر کی بوتل تھی۔ میں نے کہا ایک کافی لے آئیں۔ کاپوچینو اور دو چمچ شکر کے ساتھ۔ کافی کی چسکیاں لیتے ہوئے میں نے ادھر اُدھر نظر دوڑائی۔ کیفے کو ایک لائبریری کی طرز پہ سجایا گیا تھا۔ ایک طرف کی دیوار پہ کتابوں سے بھری شیلفیں موجود تھیں۔ اور باقی دیواروں پہ مصوری کے نمونے لگے تھے۔ ایک کونے میں پرانا لیکن خوبصورت پیانو رکھا تھا۔ میزوں پہ ننھی ننھی مومبتیاں روشن تھیں۔ کیفے میں ہلکی ہلکی موسیقی گونج رہی تھی جو کہ ماحول کو اور بھی خوابناک بنا رہی تھی۔ موسیقی مشرقی طرز کی تھی، جس میں مخصوص چینی سازوں کی آواز نمایاں تھی۔ ادھر ادھر کی باتوں کے دوران اچانک میوزک تبدیل ہوا اور فضا میں ستار اور ہارمونیئم کی آواز ابھری، میں لاشعوری طور پہ میوزک کو پہچاننے کی کوشش کرنے لگا اور ایک دم خاموش ہو گیا۔ تینوں میری طرف دیکھنے لگے، سامنے بیٹھی لڑکی بولی ”کیا تم یہ گانا جانتے ہو؟“ میں نے انگلی سے اشارہ کیا کہ ایک منٹ۔ اور اتنے میں میری اندازے کے عین مطابق، موسیقی کے درمیان غلام علی کی آواز ابھری ”ہنگامہ ہے کیوں برپا، تھوڑی سی جو پی لی ہے“۔ میں نے پرجوش سے لہجے میں کہا کہ مجھے کم از کم آج یہ توقع نہیں تھی کہ میں ایک جرمن کیفے میں بیٹھا ہوں گا اور غلام علی کی غزل سنائی دے گی۔ کم از کم کیمنٹس کے اس تقریبا غیر آباد علاقے میں جہاں خود کیمنٹس کے رہائشی بھی شاید نہ آتے ہوں۔ میں اس خوبصورت ماحول میں غلام علی کی آواز میں گم ہونا چاہ رہا تھا لیکن دائیں طرف بیٹھے لڑکے نے سوال کیا کہ کیا یہ گانا رقص کرنے والا ہے؟ ”غزل پہ ہم لوگ رقص تو نہیں کرتے ، ہاں جھومنے کی اجازت ہے۔ “ ”تمہیں کس قسم کی موسیقی پسند ہے؟“ سامنے سے ایک اور سوال آیا۔ ”فی الحال اس سے زیادہ مجھے دنیا میں کچھ اور نہیں پسند!“ میں نے فورا جواب دیا۔
مشرقی جرمنی کے شہر کیمنٹس میں اوائل دسمبر کی سرد، برف سے ڈھکی رات، نیم خوابیدہ ماحول میں گرم کافی کی گھونٹ اور بیک گراؤنڈ میں گونجتی غلام علی آواز۔۔۔۔

Written by عمیر ملک

View all posts →

16 Comments

علی December 6, 2012 at 12:28 am
Reply

لکی مین

دہرہ حے December 6, 2012 at 12:28 am
Reply

جو منظر آپ نے کھینچا ہے ۔ دل سے بس یہی آواز آتی ہے کاش میں بھی ہوتا وہاں

DuFFeR - ڈفر December 6, 2012 at 10:27 am
Reply

سیم ھئیر 🙂

عمیر ملک Author December 6, 2012 at 11:43 am
Reply

اے کاش! خیر آپ لوگ پڑھ کر انجوائے کریں، فی الحال۔
🙂

یاسر خوامخواہ جاپانی December 6, 2012 at 4:47 am
Reply

آپ کو مے اس سے نہیں مطلب کے بجائے۔۔
ایک جام منگا لینا چاھئے تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔
لسی نہیں ملتی اس کیفے میں؟

DuFFeR - ڈفر December 6, 2012 at 10:29 am
Reply

اور ھمیں کثافت سے دوری کے مشورے
واہ او مولوی فضلو کے جپانی بھگتو

عمیر ملک Author December 6, 2012 at 12:00 pm
Reply

کثافت یا ثقافت؟!
لسی نہیں ملتی ناں۔ ہاں انٹروڈیوس کرائی جا سکتی ہے۔۔ ط:

یاسر خوامخواہ جاپانی December 6, 2012 at 12:04 pm
Reply

او پائی جی
لسی مولوی وئی مست ہو کے پیتا ہے۔

Ayyaz December 7, 2012 at 3:52 am
Reply

بات نکلی تو بہھت دور تلک جاعے گی۔

عمیر ملک Author December 7, 2012 at 4:07 am
Reply

بہت شکریہ تحریر پر تبصرہ کرنے کا۔
ویسے آپ کس بات کی بات کر رہے ہیں؟

Ayyaz Munir December 7, 2012 at 4:03 am
Reply

Diloon ka haal khuda se behtar koy nahi jaanta .

خالد حمید December 7, 2012 at 12:03 pm
Reply

بہت بہترین منظر کشی کی ہے ۔
ایسا لگ رہا تھا کہ وہیں‌پر موجود دیکھ رہے ہیں۔
بہت خوب

عمیر ملک December 7, 2012 at 1:51 pm
Reply

بہت شکریہ خالد حمید صاحب۔

maha December 9, 2012 at 1:17 am
Reply

enjoy urself

افتخار راجہ December 9, 2012 at 7:58 pm
Reply

اگر اس میں‌ غزل کی طرز پر مئے اور لڑکی کا کچھ زکر زیادہ ہوتا بجائے کاپوچینو کے تو کچھ اور بھی چس بنتی،

عمیر ملک Author December 9, 2012 at 8:35 pm
Reply

وہ کیا کہتے ہیں نقصِ امن کے خطرے کے پیش نظر ذرا بچ بچا کر لکھ دیا۔ ویسے تو ڈیٹیلز بہت تھیں اس ملاقات کی۔ : ) اگر ایک نے رقص کا کہا تو دوسرے نے ترجمے کی بھی فرمائش کی اور تیسری نے پھر مسکرا کر عمل کا بھی تقاضا کیا ہی” ہو گا“ آخر۔۔۔۔
لیکن ہم ٹھہرے کاپوچینو پی کر مست ہونے والے، ہمیں یورپی میل ملاقات کے طریقوں سے کیا۔۔ :پ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *