مضمون: میری بھینس

یوں تو دنیا میں کئی قسم کے جاندار پائے جاتے ہیں لیکن میرا پسندیدہ پالتو جانور بھینس ہے۔ میری پیاری بھینس کا نام دُلاری ہے۔ اس کی عمر 15 سال ہے۔ اس کے دو کان، دو آنکھیں، ایک ناک اور ایک منہ ہے۔ اس کی چار ٹانگیں اور ایک دم بھی ہے۔ میری بھینس صحت مند اور موٹی تازی ہے۔ میری بھینس کی رنگت سیاہی مائل کالی ہے اور اس کے ماتھے پہ سفید دودھیا نشان ہے جو آج کے سُپر مون کی طرح روشن نظر آتا ہے اور اسے تمام بھینسوں میں نمایاں کرتا ہے۔ اس کا قد کاٹھ محلے کی تمام بھینسوں کے مقابلے خوب نکلتا ہوا ہے اور سب لوگ اسے رشک و حسد کی نگاہوں سے دیکھتے ہیں (اسی لئے اللہ تعالیٰ نے اسے سیاہ رنگ سے نوازا ہے تاکہ حسد بھری نگاہوں سے محفوظ رہ سکے)۔ میری دُلاری کی آنکھیں سیاہ اور چمکدار ہیں۔ جب میں اسے چارہ ڈالتا ہوں تو وہ اپنی لامبی لامبی پلکوں کو اٹھا کر مجھے تشکر بھری نگاہوں سے دیکھتی ہے تو میرے دل میں اس کیلئے موجود پیار مزید بڑھ جاتا ہے۔
[مکمل تحریر پڑھیں]





آج شہنشاہِ قوّالی استاد نصرت فتح علی خان کی 67ویں سالگرہ ہے۔ 
اے پتر ہٹان تے نئیں وکدے۔۔۔ جب بھی یہ نغمہ کانوں میں پڑا ہمیشہ خون میں ایک ابال محسوس کیا۔ جب پنجابی سمجھ آنا شروع ہوئی تو اس کے بول سن کے آنکھیں نم اور دھڑکنیں تیز بھی ہوئیں۔ سکول میں چھے ستمبر کی تقریبات میں حصہ بھی لیا، تقریریں بھی کیں، ٹیبلو بھی پیش کئے۔ آرمی پبلک سکول ہونے کے ناطے اکثر ستمبر کے مہینے میں عسکری نمائش بھی لگتی تھی، جس میں بچے ٹینک وغیرہ میں بیٹھ کر فوجی جوانوں کے ساتھ تصویریںبھی بنواتے تھے۔ میں نے بھی یہ شوق پورے کئے۔ پی ٹی وی پہ لگنے والی ٹیلی فلمیں بھی دیکھیں، ضلع گجرات اور گردونواح کے حصے میں نشان حیدر بھی ہیں اس لئے ہمیشہ اس طرح کی ٹیلی فلمیں دیکھ کر سینہ بھی چوڑا ہوتا ہوا محسوس ہوا۔