علامہ محمد اقبالؒ کی ایک فارسی نظم کا ترجمہ (محاورہ ما بین خدا و انساں)

عمیر ملک

March 4, 2009

Share Article
محاورہ ما بین از خدا و انساں

(خدا)

جہاں را ز یک آب و گِل آفریدم
تُو ایران و تاتار و زنگ آفریدی

من از خاک پولادِ ناب آفریدم
تُو شمشیر و تِیر و تفنگ آفریدی
تبر آفریدی نہالِ چمن را
قفس ساختی طائرِ نغمہ زن را

(انسان)

تُو شب آفریدی ،چراغ آفریدم
سفال آفریدی، ایاغ آفریدم
بیابان و کہسار و راغ آفریدی
خیابان و گلزار و باغ آفریدم
من آنم کہ از سنگ آئینہ سازم
من آنم کہ از زہر نوشینہ سازم

( ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ)

اردو ترجمہ:

(خدا انسان سے گلہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ اے انسان!) میں نے تو (ساری ) دنیا کو ایک ہی طرح کے پانی اور مٹی سے پیدا کیا تھا(مگر) تو نے اِسے ایران، تاتار اور حبشہ میں تقسیم کر دیا۔ میں نے زمین سے خالص فولاد پیدا کیا تھا (مگر) تو نے اس سے تلوار، تِیر اور بندوق (جیسے مہلک ہتھیار) بنا لئے۔ تُو نے باغ کے پودوں کو کاٹنے کے لئے کلہاڑا بنایا اور گیت گانے والے پرندوں کے لئے پنجرہ بنا لیا۔
(اللہ تعالیٰ کی بات کے جواب میں انسان خدا سے کہتا ہے کہ اے خدا!)تُو نے رات بنائی تو میں نے (اُس رات کو روشن کرنے کے لئے) چراغ بنا لیا، تُو نے مٹی پیدا کی میں نے اس مٹی سے پیالہ بنا لیا۔ تُو نے بیاباں، پہاڑ اور جنگل پیدا کیے تو میں نے پھولوں کی کیاریاں، چمن اور باغ بنائے۔ میں وہ ہوں جو پتھر سے آئینہ بناتا ہے، میں وہ ہوں جو زہر سے دوائے شفا بناتا ہے۔

Written by عمیر ملک

View all posts →

2 Comments

افتخار اجمل بھوپال March 10, 2009 at 4:52 pm
Reply

علامہ اقبال ایک فلسفی تھے جنہوں نے قرآن شریف سے روشنی حاصل کی

عین لام میم March 10, 2009 at 10:43 pm
Reply

افتخار صاحب! بلاگ پہ آنے کا بہت شکریہ۔ ۔ آپ نے بالکل ٹھیک فرمایا کہ اقبال کی شاعری واقعی قرآن سے ماٗخذ ہے۔ ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *