تحریر تک جائیں
پانچواں درویش
  • BrainMasaala
  • اردو
  • رابطہ کریں
  • میرے بارے میں
  • سر ورق
واپس جائیں: Home > Page 3

Primary Sidebar

فیس بک گوگل + ٹویٹرای میل کیجئے

بلاگ میں تلاش کیجئے

مقبول ترین

  • ڈُوڈل آرٹ Doodle-Art
  • اردو فونٹس اور کِی بورڈ انسٹال کریں
  • بابائے اردو – مولوی عبدالحق
  • استعمال کیجئے، یہ بڑھے گا

تازہ ترین

  • مضمون: میری بھینس
  • قدرت، معاشرہ اور صنفی امتیاز
  • منزل
  • سانسوں کی مالا پہ
  • مریخ کے پانی کی کہانی

Food for thought…

Brain Masaala

مشہور موضوعات

اخباریات اردو زبانیات اسلامیات المانیات انجینئرنگ انٹرنیٹ گردی برین مصالحہ بلاگر اردو ٹیمپلیٹس بلاگستانیات بچپنیات تصاویر درویشی کھاتہ دینیات ذرا سوچئے/سوچ بچاریات سفریات شاعر اور شاعری طنز و مزاحیات فلمیات فن اور فنکاریات قصہ کہانی لالہ موسیٰ متفرق معاشرتیات مہمان پوسٹ ورڈپریس ورڈپریس تھیمز وغیرہ وغیرہ پاکستانیات پردیسیات پنجابیات ڈائری کتابیات کھیل کودنیات گیلری

Ads

بلاگی صورت حال

عمیر ملک اپریل 12, 2013 16

آجکل عجیب سی صورت حال سے گزر رہا ہوں میں، جب بھی بلاگ پہ کچھ لکھنے کیلئے بیٹھتا ہوں تو ایک بیزاری سی چھا جاتی ہے اور ایسے لگتا ہے جیسے الفاظ ذہن سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہ رہے۔ انگلیاں کی بورڈ پہ ناچتی ضرور ہیں لیکن اس رقص سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، کوئی راضی نہیں ہوتا۔ لکھ لکھ کے مٹائے جاتا ہوں۔ اگر نہ مٹاؤں تو بھی بس مسودے ہی محفوظ کرتا ہوں۔ دو ہفتوں میں کوئی آدھا درجن ڈرافٹس بن چکے ہیں۔ عام طور پہ اگر میرے ذہن میں کچھ آئے یعنی”آمد“ ہو تو میں اپنے موبائل میں فورا نوٹ بنا لیتا ہوں۔ پھر جب بھی وقت ملتا ہے اس نوٹ کو دوبارہ پڑھتا ہوں اور اگر اس پہ مزید کچھ لکھنا چاہوں‌تو اس کو بلاگ پہ منتقل کر کے مزید لکھ لیتا ہوں۔ اس طرح بعض اوقات موبائل میں بنے نوٹس کی تعداد کافی ہو جاتی ہے اور کچھ موضوعات جو اس وقت اہم یا ”کلک” کرتے محسوس ہوتے ہیں، بعد میں بے جان لگتے ہیں یا ان پہ مزید لکھنے کو دل نہیں کرتا۔ اپنی موت مرتے ان ڈرافٹوں کی تعداد زیادہ ہوتی جا رہی ہے آجکل۔۔۔ کچھ بھی نظر ثانی میں پاس نہیں ہو رہا!
اب اسی پوسٹ کو دیکھ لیں۔۔۔۔۔ اس سے آگے کچھ نہیں لکھنے کو دل کر رہا۔ کیا آپ میں سے کوئی اور بھی اس صورت حال سے گزرتا ہے؟

باربر شاپ

عمیر ملک مارچ 8, 2013 6

بازار کے کونے پہ ایک چھوٹی سی مسجد ہے۔ مسجد کا ایک دروازہ دوسری جانب جی ٹی روڈ کی طرف فٹ پاتھ کے ساتھ کھلتا ہے۔ گیٹ کے بالکل ساتھ دیوار پہ ایک آئینہ لٹک رہا ہے، سامنے ایک پرانی، بلکہ قدیم کرسی رکھی ہے۔ کرسی کی ایک ٹانگ کے نیچے اینٹ رکھ کے اسے بیٹھنے کے قابل بنایا گیا ہے۔ آئینے کے نیچے ایک لکڑی کے تختے کی شیلف سی بنا کر اس پہ حجامت بنانے کا سامان رکھا ہوا ہے۔ یہ ہے شہر کی سب سے پرانی نائی کی دکان۔ سڑک کے کنارے، درخت کے نیچے اور مسجد کے ساتھ بنی اس دکان کی دھندلی سی یادیں اب بھی ذہن میں محفوظ ہیں۔ فٹ پاتھ بننے سے پہلے سڑک کے کنارے پرانا اور گھنا درخت تھا، جس کے نیچے ٹوٹے ہوئے لکڑی کے ایک دو بینچ رکھ کر اپنی حجامت کا انتظار کرنے والوں کیلئے بیٹھنے کے ساتھ ساتھ تازہ اخبار کا انتظام بھی ہوتا تھا۔ ان بنچوں پر ایک دو بابے مستقل ہی بیٹھے ہوتے تھے۔ جب بھی وہاں سے گزر ہوا، ان کو وہاں ہی بیٹھے دیکھا۔صبح سویرے بابا جی ہاتھ میں اخبار پکڑے ابھی بمشکل سرخی ہی پڑھتے تھے اور اسلم نائی حاجی صاحب کی شیو بناتے ہوئے اصل خبر اس کے بقیہ حصے سمیت با آواز بلند سنا دیا کرتا تھا۔ پھر ہر خبر پہ سیر حاصل تبصرہ، مسائل کی نشاندہی اور ان کا حل، موجودہ حکومت کی نا اہلیاں اور آئیندہ امیدواروں کی تعریف سب کچھ ایک ہی پیکج میں شامل ہوتا تھا۔[مکمل تحریر پڑھیں]

آلو میتھی [پنجابی نظم]

عمیر ملک مارچ 1, 2013 6

ایک دوست کی فرمائش پہ ایک تازہ تازہ پنجابی نظم، جسکا عنوان ہے ”آلو میتھی“

منڈا سی اک پنڈ دا میرے
نال سکولے جاندا سی
نال ای کھیڈ دے ہسدے سی
نال ہی سکولوں نسدے سی
بیہ کے سٹے لاندے سے
وڈے پلان بناندے سی
دسویں جماعت دے پرچے دے کے
بیٹھے سی اساں ویلے ہو کے
سوچدے سی ہن کیہ کجھ کریئے
سوچاں وچ کینویں رنگ بھریئے[مکمل تحریر پڑھیں]

مس حمیرا

مس حمیرا

عمیر ملک فروری 16, 2013 8

مس حمیرا، یہ نام انہیں میرے ایک دوست نے دیا تھا۔ اصل نام تو ان کا عجیب سا ہے، جیسے کہ تمام جرمن نام ہوتے ہیں جو منہ ٹیڑھا کئے بغیر پکارے نہیں جا سکتے۔ ان کے نام میں بھی جرمن حروف تہجی کا واول استعمال ہوتا ہے اور واول کی آواز جرمن منہ سے نہیں نکالتے ۔۔۔۔۔۔ [1] سے نکالتے ہیں۔ ان کا نام مس حمیرا رکھنے کی ایک وجہ تو یہی تھی اور دوسری وجہ بقول میرے دوست کے کہ ہر ایک کی اسکول لائف میں ایک مس حمیرا ضرور ہوتی ہیں۔ یہ کسی شخصیت کا نام نہیں بلکہ ’ایک سوچ‘ کا نام ہے۔ ایک ایسی مِس جو صبح کلاس میں آئے تو ناشتے کی افادیت، یونیفارم کی صفائی، رات کو جلدی سونے جیسے معاملات پہ ہی پونا گھنٹا لگا دے اور آخر میں کہہ دے: ”اوہ، ٹائم ختم ہو گیا، آپ لوگ ایسا کریں کہ کل والا ہوم ورک ہی ایک بار پھر کریں۔“ جنہیں ہوم ورک سے زیادہ کاپیوں پہ چڑھائے کور اور خوشخط لکھے نام میں دلچسپی ہو۔ اگر بریک کے بعد کسی کلاس میں جائیں تو بچوں کی آپسی لڑائیاں، شکائتیں، شرارتیں سننے میں اور ان میں صلح صفائی کرانے میں ہی چھٹی کے وقت تک الجھی رہیں۔ چھٹی سے پہلے بچوں کو اس طرح ہدایات دیں کہ ایسا لگے جیسے ’امی‘ لگ گئی ہیں ہماری! پرنسپل صاحب اگر اسمبلی میں پوائنٹ آؤٹ کرتے ہوئے کہہ دیں کہ ان کی کلاس کے بچوں کے یونیفارم صاف نہیں ہیں تو سارا دن اسی ٹینشن میں ہلکان ہوتی پھریں کہ اگر ان کا بس چلے تو سٹاف روم میں ہی واشنگ مشین لگا کے یونیفارم دھونا شروع کر دیں۔ امتحانوں میں بچوں کو ازراہ ہمدردی ہی سارا پرچہ حل کروا دیں اور ہیڈ مسٹریس کو کہہ دیں کہ میں تو بس سوال کا مطلب سمجھا رہی تھی! اسی لئے ہیڈ مسٹریس امتحانوں میں انہیں ’انتظامی کام‘ سونپ دیتی ھیں، جیسے کلاسوں میں کرسیوں کی تعداد چیک کرنا، ٹھنڈے پانی کی فراہمی یقینی بنانا، وغیرہ۔[مکمل تحریر پڑھیں]

کھڑکی

کھڑکی

عمیر ملک فروری 11, 2013 6

بچپن میں جب ہم کہانیاں سنتے ہیں تو ہمیں یہ احساس نہیں ہوتا کہ جب ہم بڑے ہو جائیں گے تو ہمارے بچپن کی سچائیاں خود ہمارے لئے ہی ایک کہانی بن جائیں گی۔
یہ اس وقت کی بات ہے جب میں چھ سات سال کا تھا۔ ہم ایک درمیانے سائز کے مکان میں رہتے تھے۔ اس مکان کا دروازہ ایک انتہائی تنگ گلی میں تھا، جس کا ایک سِرا بازار میں کھلتا تھا جب کہ دوسرے سرے پہ ایک اور مکان کا دروازہ تھا جو اکثر بند ہی رہتا تھا۔ گلی محض ڈھائی تین فٹ چوڑی ہوگی اور دونوں طرف موجود اونچی دیواروں کے باعث مزید تنگ محسوس ہوتی تھی۔ ہمارے گھر کا دروازہ گلی کے دوسرے سرے پہ موجود بند دروازے کے ساتھ ہی تھا۔
مجھے ہمیشہ گلی کے نکڑ سے اپنے گھر تک جانے میں بہت ڈر لگتا تھا۔ گلی میں داخل ہوتے ہی میں اس طرح تیز تیز چلنا شروع کر دیتا تھا کہ جیسے وہ لمبی دیواریں مزید تنگ ہو رہی ہوں اور میرے گھر تک پہنچنے سے پہلے ہی آپس میں مل جائیں گی۔ اس خوف کی وجہ جو بھی تھی لیکن یہ خوف اب بھی کبھی کبھار سامنے آ جاتا ہے۔ میرے خیال میں ہم سب کے لاشعور میں تنگ جگہوں کا خوف ازل سے موجود ہے۔
[مکمل تحریر پڑھیں]

eXam prep

بلا عنوان

عمیر ملک جنوری 27, 2013 30

eXam prep
میں، کتابیں اور انٹرنیٹ

لُوپ اَنٹل اِنفینیٹی
رات کے پونے دو بجے ہیں اور میں اپنے سامنے امتحان کی تیاری کا سارا سامان کھولے بیٹھا ہوں۔ چیپس کا پیکٹ، بھاپ اڑاتا مگ، چاکلیٹس، ٹک ٹک کرتی گھڑی، لیپٹاپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ ہاں! کتاب، نوٹس، قلم دوات وغیرہم بھی پاس ہی رکھے ہیں۔ لیکن میں سوچ کچھ اور رہا ہوں۔ کبھی میں لیپٹاپ کھول کے یہ دیکھتا ہوں کہ کوئی ای میل تو نہیں آ گئی “ضروری” والی۔ پھر یونہی ذرا ازراہ تفنن ہلکی سی فیس بک پہ نظر ڈال لیتا ہوں۔ اوہ ایک نوٹیفیکیشن! اوہ ہ ہ ۔۔ اچھا یہ تو کسی اور نے کمنٹ کیا ہے۔ہمممم۔ دفعہ کرو اس فیس بک کو۔ اصلی والی بُک کھولو۔ چار لفظ پڑھے اور ساتھ ہی ایک گھونٹ چائے کا لگایا، اوہو چینی تو ڈالنا ہی بھول گیا۔ نہیں یہ تو نہیں ہو سکتا، چینی تو میں نے ضرور ڈالی ہوگی۔ ارے ہاں، چمچ ہلانا بھول گیا تھا۔ اٹھ کر چمچ لینے گیا، واپسی پہ بس یونہی فریج بھی کھول کے دیکھ لیا۔ کیا پتا کوئی اپڈیٹ کر گیا ہو سٹف! [مکمل تحریر پڑھیں]

موسم کے پکوان: کانسپیریسی پکوڑے

عمیر ملک جنوری 6, 2013 9

آج ہم آپ کیلئے لے کر آئے ہیں ایک سدا بہار ڈش جو ہر موسم میں بے مثال اور بھرپور مزا دیتی ہے۔ جی ہاں، کانسپریسی پکوڑے۔ یوں تو مارکیٹ میں کئی طرح کے کانسپریسی پکوڑے بنے بنائے دستیاب ہوتے ہیں لیکن جو مزا تازہ اور ہاتھ کے ہاتھ بنے پکوڑوں کا ہے وہ کسی کا نہیں۔ کانسپریسی پکوڑوں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ان کو بنانے کیلئے آپ کوئی بھی موسمی یا بے موسمی خبر استعمال کر سکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں مزا برقرار رہتا ہے۔ ہاں، ایک بات ہے کہ کانسپریسی پکوڑے بنا تو سب سکتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے بنائے ہوئے پکوڑوں میں جو مزا ہے وہ باقی تمام کو پھیکا بنا دیتا ہے۔
تو آئیے بناتے ہیں کانسپریسی پکوڑے۔ سب سے پہلے ہمیں جو چیز درکار ہوگی وہ ہے کوئی بھی خبر، موسمی ہو جائے تو بہت اعلیٰ ورنہ بے موسمی اور باسی خبر کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے پہلے اسے ذرا کچھ دیر کیلئے فیس بک ، ٹویٹر، یوٹیوب یا دیگر فورموں میں تھوڑی دیر کیلئے کھلا چھوڑ دیں۔ بس بارہ پندرہ لائک یا ری ٹویٹوں کے بعد آپ اس کو پکوڑوں کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔[مکمل تحریر پڑھیں]

پیچھے → 1 2 3 4 … 17 ← آگے

ای میل درج کریں

اپنا ای میل ایڈریس درج کریں اور ای میل کے ذریعے نئی تحاریر کے بارے میں مطلع رہیں۔

تمام ٹیگز

14 اگست 14august Blogspot Templates blog traffic Chemnitz ciit comsats facebook funny google Iqbal islamabad lalamusa nazm Pakistan SEO urdu wikileaks wordpress اردو اردو زبانیات اردو شاعری اردو ٹیمپلیٹس بلاگر ٹیمپلیٹس بلاگستانیات بلاگسپاٹ اردو ٹیمپلیٹس بچپنیات تجزیے اور تبصرے تصاویر جرمنی سیا ست۔ لالہ موسیٰ شاعری فلم فیس بک قصہ کہانی مزاحیہ معاشرتیات وکی لیکس پاکستان پاکستانیات پردیسی پنجابی ڈائری ڈوڈل آرٹ گوگل

Copyright © 2026. Proudly Powered by WordPress & WebYatri Themes