موسم کے پکوان: کانسپیریسی پکوڑے

عمیر ملک

January 6, 2013

Share Article

آج ہم آپ کیلئے لے کر آئے ہیں ایک سدا بہار ڈش جو ہر موسم میں بے مثال اور بھرپور مزا دیتی ہے۔ جی ہاں، کانسپریسی پکوڑے۔ یوں تو مارکیٹ میں کئی طرح کے کانسپریسی پکوڑے بنے بنائے دستیاب ہوتے ہیں لیکن جو مزا تازہ اور ہاتھ کے ہاتھ بنے پکوڑوں کا ہے وہ کسی کا نہیں۔ کانسپریسی پکوڑوں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ان کو بنانے کیلئے آپ کوئی بھی موسمی یا بے موسمی خبر استعمال کر سکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں مزا برقرار رہتا ہے۔ ہاں، ایک بات ہے کہ کانسپریسی پکوڑے بنا تو سب سکتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے بنائے ہوئے پکوڑوں میں جو مزا ہے وہ باقی تمام کو پھیکا بنا دیتا ہے۔
تو آئیے بناتے ہیں کانسپریسی پکوڑے۔ سب سے پہلے ہمیں جو چیز درکار ہوگی وہ ہے کوئی بھی خبر، موسمی ہو جائے تو بہت اعلیٰ ورنہ بے موسمی اور باسی خبر کو بھی استعمال کیا جا سکتا ہے لیکن اس کیلئے پہلے اسے ذرا کچھ دیر کیلئے فیس بک ، ٹویٹر، یوٹیوب یا دیگر فورموں میں تھوڑی دیر کیلئے کھلا چھوڑ دیں۔ بس بارہ پندرہ لائک یا ری ٹویٹوں کے بعد آپ اس کو پکوڑوں کیلئے استعمال کر سکتے ہیں۔
خبر کو اچھی طرح تڑوڑ مڑوڑ کر پھیلائیں۔ اب مصالحہ لگانے کی باری آتی ہے۔ اس میں احتیاط یہ کرنی ہے کہ مصالحہ صرف موضوع کے حساب سے لگائیں۔ ویسے تو کوئی بھی مصالحہ کام دکھا سکتا ہے لیکن کچھ خبریں مخصوص مصالحوں میں ہی مزہ دیتی ہیں۔ جیسے سدابہار مذہبی خبروں کو ہی لے لیں، یہ سب سے عام قسم ہے۔ اس میں آپ کچھ بھی ملا دیں، ذائقہ نکل ہی آئے گا مثال کے طور پہ، اگر خبر سنّی ہو تو اس میں شیعہ مصالحہ ڈالیں۔ اہلحدیث ہو تو بریلوی نمک مرچ لگا دیں، وغیرہ وغیرہ۔ مصالحہ لگانے کے بعد خبر کو مزید پھیلائیں، پھر اس پہ غیر مسلم بائیکاربونیٹ چھڑک دیں۔ اس سے خبر پھول جائے گی، اب اس کو پہلے سے گرم شدہ امریکی ساختہ یہودی لابی میں پکنے کیلئے رکھ دیں۔ کچھ لوگ جدید عیسائی مشینری بھی استعمال کرتے ہیں لیکن جو مزا ٹریڈیشنل یہودی لابی کے پکوڑوں میں ہے وہ کسی اور میں کہاں!۔ اگر خبر میں مسلکی پن کم محسوس ہو تو چٹکی پھر قادیانی سوڈا ملا دیں۔ دوسروں کے کان لال ہونے اور ہلکا ہلکا دھواں اٹھنے تک پکنے دیں۔
کانسپیریسی پکوڑوں کی ایک اور قسم ہے جس میں آپ علاقائی، صوبائی، لسانی، زبانی وغیرہ قسم کی ملکی و غیر ملکی خبریں استعمال کر سکتے ہیں۔ ان پکوڑوں کو بنانا مشکل نہیں ہے لیکن ان کو سرو کرنے میں خاصی احتیاط کرنی پڑتی ہے۔ خاص قسم کے دسترخوان پہ جب زبان کے چٹخارے کے ساتھ صوبائی تعصب کی طشتری میں بھاپ اڑاتے یہ پکوڑے سامنے آتے ہیں تو ہمسائے تک کی رال ٹپک پڑتی ہے۔ سیاست کے برساتی موسم میں لال شربت کے ساتھ یہ اور بھی مزہ دیتے ہیں۔
جیسا کہ پہلے بتایا کہ آجکل مارکیٹ میں بنے بنائے کانسپیریسی پکوڑوں کی بھی بھرمار ہے۔ وقت کی کمی، مشینری کی خرابی، یا کسی اور وجہ سے اگر آپ خود نا بنا سکیں تو امپورٹیڈ ٹِن پیک میں دستیاب آمیزہ استعمال کر لیں۔ اس سلسلے میں ہمیشہ کی طرح امریکی درآمدہ کوالٹی پیک سب سے زیادہ مشہور ہے۔ اس کی خاص وجہ کوالٹی اور پراپیگنڈے پہ سمجھوتہ نہ کرنا ہے۔ ان پیکٹوں کے ساتھ ہی مختلف مصالحے انسٹینٹ مل جاتے ہیں، جنہیں آپ حسب ذائقہ مقدار میں استعمال کر کے حسب ضرورت نتائج حاصل کر سکتے ہیں اور حسب توفیق معاشرتی کمینگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں۔

نوٹ: تمام ریسیپیاں کمینے لوگوں کی پہنچ میں رکھیں۔ مروڑ اٹھنے کی صورت میں واویلا مچائیں اور معصومیت کی چادر اوڑھ کر الزام تراشی کا سیرپ استعمال کریں۔

Written by عمیر ملک

View all posts →

9 Comments

فضل دین January 6, 2013 at 8:04 pm
Reply

ہماری نوجوان نسل کی پسندیدہ ڈش۔۔۔۔ زبردست جناب 🙁

عمیر ملک Author January 7, 2013 at 2:17 am
Reply

پرانی نسل کی بھی مرغوب ڈش رہی ہے۔ سدابہار ہے ناں!

یاسر خوامخواہ جاپانی January 6, 2013 at 10:04 pm
Reply

یہ تو پاکستان میں نہایت مقبول ڈش ہے۔
پچھلے دنوں یہ پکوڑے بہت پکے جی۔۔سنا ہے پک بھی رہے ہیں۔
آپ کی ترکیب کا انداز لاجواب ہے۔

عمیر ملک Author January 7, 2013 at 2:18 am
Reply

ان پکوڑوں کا تو نہ ہی پوچھیں جی۔ 🙁
خیر، ترکیب پسندنے کا شکریہ۔

فرحان January 7, 2013 at 12:17 am
Reply

قادیانی سوڈا
غیر مسلم بائیکاربونیٹ چھڑک دیں۔ اس سے خبر پھول جائے گی
ہمسائے تک کی رال ٹپک پڑتی ہے
الزام تراشی کا سیرپ
کمال کر دیا آپ نے تو یہ لکھ کر، اب تو ڈان میں آنا ہی بنتا ہے۔ (:

عمیر ملک Author January 7, 2013 at 2:20 am
Reply

بہت شکریہ۔
یہ تو اندر کی‌خبر تھی!

رضوان خان January 7, 2013 at 12:26 am
Reply

بھائی آجکل تو سیاسی پکوڑوں کا موسم ہے۔

عمیر ملک Author January 7, 2013 at 2:21 am
Reply

سیاسی پکوڑے تو چٹنی کے ساتھ تیار ہو رہے ہیں ہر طرف۔ دیکھو کس کے منہ میں پانی آتا اور کس کے کانوں میں دھواں!
تبصرہ کرنے کا شکریہ

maha January 8, 2013 at 1:03 am
Reply

vat a use of word,,buhat standard likhnay lagay ho bhai g…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *