شعیب اور ثانیہ؛ دامادِ ہندوستان اور بہوٗ پاکستان

عمیر ملک

April 8, 2010

Share Article
تقریباً ایک ہفتے سے زیادہ ہو گیا ہے کہ میڈیا میں ایک ہی بات کی لسّی بنائی جا رہی ہے اور وہ ہے جناب محترمی و مکرمی شعیب ملک سلّمہ’ کی شادی خانہ آبادی ہمراہ محترمہ آنسہ ثانیہ مرزا سلّمہَا جو کہ 15 اپریل 2010 بروز جمعرات کو ہونا قرار پائی ہے، اس معاملے کو وہ شہرت حاصل ہوئی ہے جو شاید عمران خان اور جمائما کو بھی نہیں ملی تھی۔ اور وجہ صرف اور صرف پاکستانی و بھارتی میڈیا۔۔۔۔۔۔ اس میڈیا وار میں پاکستانی میڈیا نے منہ توڑ جواب دیا ہے بھارتی میڈیا کو، اور ان سے بھی بڑھ کر ڈرامائی رنگ میں پیش کیا اس سارے معاملے کو، لمحہ بہ لمحہ۔۔۔۔۔
کبھی عایشہ صدیقی کا قصہ تو کبھی سیالی بھگت۔۔۔۔۔ کچھ اس کہانی میں ویسے ہی بڑے ٹوسٹ تھے کہ یہ خود ہی ایک سٹار پلس کے ڈرامے کی طرح آگے بڑھ رہی تھی، باقی کسر میڈیا پہ ہونے والے تبصرے و تجزیے پوری کر رہے تھے جیسے کوئی قومی سلامتی کا مسئلہ زیرِ بحث ہو!. پاکستانی قوم تو خیر ویسے ہی اس معاملے میں شعیب ملک کے ساتھ تھی اور “دل” سے چاہتی ہے کہ ثانیہ مرزا پاکستان کی اجتماعی بہو بن جائے۔ جیسا کہ ایک ایس ایم ایس میں محترمہ ثانیہ مرزا کو بھابھیٗ قوم کا توصیفی خطاب بھی دیا گیا ہے!۔

خبروں کی سرخیاں تو اس حد تک جا چکی تھیں کہ ” ابھی ابھی ثانیہ مرزا اپنے گھر کی بالکونی میں موبائل فون پر بات کرتے ہوئے دیکھی گئی ہیں”۔۔۔۔۔۔۔۔۔ “جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ ان کی والدہ اور شعیب ملک بھی کمرے سے برآمد ہوئے ہیں اور کسی معاملے پر بات کر رہے ہیں، وہ پریشان دکھائی دے رہے ہیں”۔۔۔۔۔۔۔۔ ” ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ یہ فوٹیج سب سے پہلے ہم نے اپنے ناظرین تک پہنچائی ہے اور اس پریشانی کی نوعیت کے بارے میں ہم نے بات کرنے کیلئے دعوت دی ہے جناب ماہرِ نفسیات ڈاکٹر فلاں فلاں خیالی صاحب کو۔۔۔”
“ثانیہ مرزا اپنے کمرے میں خوشی سے جھومتی پائی گئی ہیں”۔۔۔۔۔۔۔ اس حوالے سے ہم نے بات کرنے کیلئے اپنے سٹوڈیوز میں دعوت دی ہے مشہور رقاصہ محترمہ م،ن نرگس صاحبہ کو۔۔۔!”
” شعیب ملک گھر سے نکلتے ہوئے پریشانی میں اپنے بال بنانا بھول گئے”۔۔۔۔ اسوقت ہمارے ساتھ آنلائن موجود ہیں مایا ناز ہیئر سٹائلسٹ جناب فلاں فلاں بوبی۔۔۔۔!
“عایشہ صدیقی نے عدالت جانے کا فیصلہ کر لیا”۔۔۔۔۔۔ ہمارے ساتھ موجود ہیں ماہرِ قانون فلاں فلاں طلاقی صاحب۔۔۔۔!
اور ابھی تو اس ڈرامے کا ڈراپ سین یعنی شادی خانہ آبادی بھی باقی ہے۔۔۔۔۔ جب ن لیگ کی خواتین “غائبانہ مہندی” کی رسم ادا کر سکتی ہیں توشادی کے بعد کی رسومات کا کیا حال ہو گا، اس کا اندازہ آپ خود ہی لگا لیں۔ شعیب ملک کو ہنی مون منانے کیلئے گلگت بلتستان میں آنے کی دعوت تو دی ہی جا چکی ہے۔۔۔۔۔بس اب گلی گلی میں تہنیتی پیغامات کے بینر اور بورڈ لگانے کی کمی ہے، جو کہ ضرور پوری کی جائے گی کہ یہ تو ہماری قوم کا خصوصی مقابلہ ہوتا ہے کہ دیکھیں کون محلے کی دیواریں زیادہ رنگین کرواتا ہے۔۔۔۔!

Written by عمیر ملک

View all posts →

7 Comments

Anonymous April 9, 2010 at 1:49 am
Reply

تو اس سے ثابت ہوا کہ ہم بڑا ڈرامے باز دنیا میں کوئی نہیں ہم ھر چیز کو مزے لے کر استعمال کرتے ہیں اور پھر ساتھ ساتھ لعنت ملامت بھی کرتے ہیں ہم سے بڑا دھوکے باز کوئی نہیں…kamran Asghar Kami

DuFFeR - ڈفر April 9, 2010 at 1:56 am
Reply

کافی دلچسپ لکھا ہے
اور قوم کے احساسات اور منصوبوں کی صحیح ترجمانی کی ہے

tariqraheel April 9, 2010 at 12:49 pm
Reply

نہ جانے کیوں رہی اب تک تمہاری ثانیہ مرزا
ہمیں لگتا ہے‘ تھی کب سے‘ ہماری ثانیہ مرزا

یقیں ہے اب ہمیں‘ بھارت سے ہم کشمیر لے لیں گے
اس دم‘ جب تیری ڈولی اتاری‘ ثانیہ مرزا
بے چارے ”ٹھاکرے“ کا بس نہیں‘ کچھ کر نہیں سکتا
بہادر ہے‘ نہیں بے بس بے چاری ثانیہ مرزا
ہے شرمیلا ”شعیب“ اپنا بیاہا یا کنوارہ تھا

خوشی یہ ہے کہ لائے گا‘ کنواری ثانیہ مرزا
دعا یہ ہے کہ دونوں خوش رہیں‘ ہم جب انہیں دیکھیں

وہ صدقے ثانیہ کے‘ اس پہ واری ثانیہ مرزا
کھلاڑی اور ایکٹر‘ کچھ نہ کچھ کر ہی دکھاتے ہیں
ترا بھی پاوں ہو گا جلد بھاری‘ ثانیہ مرزا

کسی بھی ملک میں رہنا‘ میاں کے ساتھ جا کر تم
بہو رہنا ہماری‘ عمر ساری‘ ثانیہ مرزا
ترا سسرال پاکستان ہے‘ بھارت ترا میکہ
کر سکتی ہے تو دونوں میں یاری‘ ثانیہ مرزا
کہو ”بابل“ سے وہ دریا ہمارے ہم کو واپس دے
ہمیں لوٹائے وہ ”جنت“ ہماری ثانیہ مرزا
”ملک“ سے بھی ترا رشتہ ”ٹوٹ انگی“ بنے گا تب
کرے جب ترک بھارت فوجداری‘ ثانیہ مرزا
بسانے کیلئے بیٹی بہت کچھ کرنا پڑتا ہے
کرے مضبوط ہم سے رشتہ داری‘ ثانیہ مرزا
نہ دے ہم کو مگر آزاد وہ کشمیر کو کر دے
نہیں بے جا کوئی خواہش ہماری ثانیہ مرزا
کریں خوں بابری مسجد کا ہم کیسے معاف اس کو
چھپا رکھا ہے دل میں زخم کاری‘ ثانیہ مرزا
تری نظروں سے کیا اوجھل ہے بھارت میں ہے آئے دن
مسلمانوں پر ظلم و جبر جاری ثانیہ مرزا

عین لام میم April 9, 2010 at 6:40 pm
Reply

کامی صاحب: جہاں تک بات ہے ڈرامے بازی کی تو میڈیا تو ہے ہی ڈرامے باز۔۔۔۔ ورنہ تو
؂ " ذرا سی بات تھی۔۔۔۔۔بڑھا دیا ہے فقط زیبِ داستاں کیلئے۔۔۔"
بہت شکریہ ڈفر۔۔۔
طارق راحیل صاحب! بلاگ پر خوش آمدید۔ اور بہت شکریہ آپنے اتنی طویل اور کمال نظم لکھی۔۔۔کیا یہ آپنے خود تخلیق فرمائی ہے؟
ویسے اس میں آپ نے سیاسی، سماجی، مذہبی اور حتیٰ کہ ازدواجی مسائل کو بھی سمیٹ لیا ہے۔۔۔۔اور ثانیہ مرزا کو بھی! 🙂

پھپھے کٹنی April 9, 2010 at 7:50 pm
Reply

دعا کريں خوشی عارضی نہ ثابت ہو کل کووشعيب نے ثانيہ کو خالہ آئنٹی وغيرہ کہہ ديا تو ہمارے سر ہوں کے اور ٹينس کا ريکٹ

عین لام میم April 9, 2010 at 8:18 pm
Reply

ہاہا ہاہاہا۔۔۔ D:

بلاگ پر خوش آمدید پھپھے کٹنی۔۔

سعد April 9, 2010 at 9:45 pm
Reply

روز روز کی دہشت گردی اور سیاست دانوں کے جھوٹ سے تنگ آئی ہوئی قوم کو ایسی خبروں میں ہی مزہ آئے گا نا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *