معذور

عمیر ملک

December 5, 2011

Share Article

جمعہ کا دن تھا۔ صبح گیارہ بارہ بج رہے تھے۔ جامع مسجد کا دروازہ ابھی بند ہی تھا کہ ایک آدمی، ایک عورت اور ایک نوجوان لڑکی تیز تیز چلتے ہوئے دروازے کے قریب آئے۔ تینوں نے موٹی کمبل نما چادریں اوڑھ رکھی تھیں اور آدمی نے ایک گٹھری بھی کندھے پہ اٹھائی ہوئی تھی۔ دروازے کے ساتھ ہی ایک تنگ سی گلی تھی جو آگے سے بند تھی۔ تینوں اس گلی میں گئے اور آدمی نے گٹھری اتار کر اسے کھولا اور اندر سے کئی چھوٹے بڑے کپڑوں کے ٹکڑے نکالے۔  لڑکی اور عورت زمین پہ بیٹھ چکے تھے۔ لڑکی نے اپنا کمبل اتارا اور اس عورت نے کپڑے کا ایک بڑا سا ٹکڑا اٹھا کر اسے اس انداز سے لڑکی کی ٹانگوں پہ باندھنا شروع کیا کہ جیسے لڑکی دوزانو بیٹھی ہو۔ اس کی ٹانگ مکمل طور پر دوہری ہو گئی تھی اور وہ عورت اس پہ ایک اور کپڑا لپیٹ رہی تھی۔ تقریبآ 5 منٹ بعد وہ لڑکی کھڑی ہوئی تو کوئی نہ کہہ سکتا تھا کہ اس کی ایک ٹانگ ہے یا دو!
اب وہ مسجد کے باہر کھڑی ہو کر مانگنے کیلئے تیار تھی۔
————————————————————————————————
میرے والد صیب بیمار ہیں اور علاج کیلئے پیسوں کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر کی پرچی میرے پاس موجود ہے، آپ دیکھ سکتے ہیں۔ برائے مہربانی میری کچھ مدد کردیں۔ اللہ کسی کو کسی کا محتاج نہ کرے میرے بھائیو!۔
بظاہر کسی قسم کی کوئی معذوری نظر نہیں آ رہی تھی لیکن نوجوان انتہائی بے شرمی سے دروازے میں کھڑا ہو کر صدا لگا رہا تھا۔ میں نے دوسری طرف منہ پھیر لیا اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا۔
کھڑکی سی باہر بھی ایک بھکاری موجود تھا۔ ایک ہاتھ لٹکا کر، لنگڑا لنگڑا کر چلتے ہوئی ہر کھڑکی پہ صدا لگا رہا تھا بلکہ کچھ عجیب سی دھونس جما رہا تھا۔۔ آواز ہیڈ فونز کے باوجود بھی میرے کانوں میں گھسی جا رہی تھی۔ اگلی سیٹ پہ سیاہ چشمہ لگائے بیٹھا وہ شخص بڑے پر سکون انداز میں بیٹھا رہا کہ جیسے اسے اس بھکاری کی آواز آ ہی نہ رہی ہو۔ بھکاری نے اس شخص کی ’بے نیازی‘ دیکھتے ہوئے کچھ لعن طعن بھی کی کہ اللہ کے دیئے میں غریبوں کا حق بھی ہے۔ پانچ، دس دینے سے تیرے کول (پاس) کم نی ہو جانے! وہ صاحب ٹس سے مس نہ ہوئے۔ حالانکہ دیئے تو میں نے بھی نہیں تھے لیکن ٹس سے مس ضرور ہوا تھا، بلکہ بہت زیادہ ہو رہا تھا۔۔۔
بس کے باہر کھڑا ایک آدمی جلدی سے اندر آیا اور بولا: ارے تم لوگ کچھ شرم کرو، ان بھائی صاحب کو تو چھوڑ دو۔ ذرا دیکھو ان کو اور ڈوب مرو۔ یہ پیدائشی اندھے اور بہرے ہیں، ایک فیکٹری میں پیکجنگ کا کام کرتے ہیں۔ کچھ ماہ پہلے ایک حادثے میں ان کی ٹانگ بھی ضائع ہوگئی تھی لیکن اب بھی کام نہیں چھوڑا۔ اور ایک تم لوگ ہو۔۔۔۔

Written by عمیر ملک

View all posts →

11 Comments

افتخار اجمل بھوپال December 5, 2011 at 9:15 am
Reply

کبھی کبھی ميرے دل ميں خيال آتا ہے
کہيں يہ دنيا سب بہروپيوں کی تو نہيں

عمیر ملک Author December 5, 2011 at 7:11 pm
Reply

بالکل صحیح فرمایا آپہ ننے۔ بہروپیے بھی کوئی ایسے ویسے۔۔۔۔

حبیب احمد December 7, 2011 at 5:22 pm
Reply

بہت خوب بھائی انتہائی خوب صورت کردار کشی کی ہے اآپ نے۔ لیکن پہلا حصہ کچھ ادھورا سا لگتا ہے۔ اگر موضوع سمجھیں تو اسے مزید رنگ چڑھائیں۔ خوبصورت لگے گا

عمیر ملک December 7, 2011 at 11:03 pm
Reply

تشریف لانے اور حوصلہ افزائی کرنے کا بہت شکریہ۔
انشاء اللہ، اس موضوع پر مزید لکھا تو اس کو بھی اپڈیٹ کر دوں گا۔

بادِ صباء December 7, 2011 at 5:34 pm
Reply

ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں ہمدرد ہزاروں
شاید میری دنیا میں اداکار بہت ہیں۔۔!

عمیر ملک December 7, 2011 at 11:05 pm
Reply

بلاگ پر تشریف لانے کا اور تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ۔

عبدالقدوس December 7, 2011 at 10:52 pm
Reply

ھمم، میری والدہ نے ایسے ہی ایک بیکارن سے کہا کہ چلو تمہیں 7 ہزار پر ملازمت دیتے ہیں تو وہ بیکارن ہنکار کر کہنے لگی اس سے زیادہ تو میں ایک دن میں کما لیتی ہوں۔

باقی آپ کی املاء ایک جگہ غلطی نظر آئی اوپر آپ نے لڑکی کی بات کی نیچھے آپ نے لڑکا لکھ دیا۔۔ یا شاید مجھے سمجھنے میں دشواری آرہی ہے

عمیر ملک December 7, 2011 at 11:09 pm
Reply

دونوں واقعات میں کوئی ربط نہیں ہے اصل میں۔ الگ الگ ہیں۔ اس لئے ایسا ہے۔
ایسے بھی کئی واقعات دیکھنے میں آئے ہیں کہ جو لوگ معذور یا کسی بیماری کا بہانہ بنا رہے ہوتے ہیں انہیں اگر کوئی علاج معالجے کی آفر کر دے تو وہاں سے فوراََ کھسک جاتے ہیں۔

نورمحمد December 22, 2011 at 4:22 pm
Reply

ان جیسوں کی وجہ سے اصل ضرورت مند محتاج رہ جاتے ہیں ۔۔۔

معذور | Tea Break December 23, 2011 at 10:46 am
Reply

[…] معذور […]

فرید محمود June 1, 2012 at 12:36 pm
Reply

اصل ضررتمند تو مانگتے ہی نہیں- مانگنے والے سب پیشہ ور ہیں- ہمیں اصل ضرورتمند کو ڈھونڈ کر دینا چاہئے۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *