اس تحریر پر 11 تبصرے کئے گئے ہیں

  1. حبیب احمد

    بہت خوب بھائی انتہائی خوب صورت کردار کشی کی ہے اآپ نے۔ لیکن پہلا حصہ کچھ ادھورا سا لگتا ہے۔ اگر موضوع سمجھیں تو اسے مزید رنگ چڑھائیں۔ خوبصورت لگے گا

    Reply

    1. تشریف لانے اور حوصلہ افزائی کرنے کا بہت شکریہ۔
      انشاء اللہ، اس موضوع پر مزید لکھا تو اس کو بھی اپڈیٹ کر دوں گا۔

      Reply
  2. بادِ صباء

    ہر موڑ پہ مل جاتے ہیں ہمدرد ہزاروں
    شاید میری دنیا میں اداکار بہت ہیں۔۔!

    Reply

  3. ھمم، میری والدہ نے ایسے ہی ایک بیکارن سے کہا کہ چلو تمہیں 7 ہزار پر ملازمت دیتے ہیں تو وہ بیکارن ہنکار کر کہنے لگی اس سے زیادہ تو میں ایک دن میں کما لیتی ہوں۔

    باقی آپ کی املاء ایک جگہ غلطی نظر آئی اوپر آپ نے لڑکی کی بات کی نیچھے آپ نے لڑکا لکھ دیا۔۔ یا شاید مجھے سمجھنے میں دشواری آرہی ہے

    Reply

  4. دونوں واقعات میں کوئی ربط نہیں ہے اصل میں۔ الگ الگ ہیں۔ اس لئے ایسا ہے۔
    ایسے بھی کئی واقعات دیکھنے میں آئے ہیں کہ جو لوگ معذور یا کسی بیماری کا بہانہ بنا رہے ہوتے ہیں انہیں اگر کوئی علاج معالجے کی آفر کر دے تو وہاں سے فوراََ کھسک جاتے ہیں۔

    Reply


  5. اصل ضررتمند تو مانگتے ہی نہیں- مانگنے والے سب پیشہ ور ہیں- ہمیں اصل ضرورتمند کو ڈھونڈ کر دینا چاہئے۔۔۔

    Reply

افتخار اجمل بھوپال کو جواب دیں جواب ترک کریں

بے فکر رہیں، ای میل ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ * نشان زدہ جگہیں پُر کرنا لازمی ہے۔ آپکا میری رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، لیکن رائے کے اظہار کیلئے شائستہ زبان، اعلیٰ کردار اور باوضو ہونا ضروری ہے!۔ p: