وہ ہاتھ آئی-ایس-آئی کا

عمیر ملک

December 3, 2011

ISI Tattoo
Share Article

ISI Tattoo “جو بھی ہوتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہوتا ہے” ۔ اب پتا چلا یہ کس ہاتھ کی بات ہو رہی تھی۔ اگر آئی ایس آئی والا ہاتھ نہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا!؟۔
اس پھر کا پتا لگانے کیلئے رخ کرتے ہیں ‘جناب ملوانا مفت-ہی صاحب’ سے، جی مفت ہی صاحب آپ ہاتھ کے پیچھے والے ‘حالات’ کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
دیکھیں جی، اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے اور حالات کے پیچھے اور آلات کے آگے والے ہاتھ کے ہاتھ میں جو عزت ہوتی ہے وہ نظریں جھکانے اور ‘انگلیاں’ اٹھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

کیا ان معاملات کا ملکی مفاد اور حساس اداروں سے کوئی تعلق ہے؟ یہ پوچھتے ہیں جناب گبر سنگھ صاحب سے۔۔۔ جی سنگھ جی! کیا کہیں گے آپ؟
وہی بات جو آج سے کئی برس پہلے کہی تھی۔۔۔۔ ” یہ ہاتھ مجھے دے دے ٹھاکر” ۔ اگر میری بات اس وقت مان لی ہوتی تو نہ وہ ہاتھ ہوتا اور نہ ہی آئی ایس آئی ان نازک معاملات کو چھپانے میں ملوث قرار پاتی۔ ویسے ہم نے اہم سراغ لگا لئے ہیں اور ہاتھ پہ لگے کیوٹیکس سے پتا لگتا ہے کہ ہاتھ آئی ایس آئی کا نہیں۔

آئیے اب ہم بات کرتے ہیں ملک کی اس مایہ ناز و مشہورِ عالم ‘ایکس- ٹریس’ سے جو ماضی میں بھی کئی ایک شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات کا اعتراف اپنے ہی منہ سے کر چکی ہیں۔ جی V صاحبہ! کیا کہیں گی آپ اس سارے ہنودی پراپیگنڈے کے بارے میں؟
بہت شکریہ اینکر بھائی آپ کا کہ آپ نے مجھ ‘انوسینٹنی’ کو یہاں دعوت دی تا کہ میں آ کر ان تمام سازشیوں‌کو ننگا کر دوں اور پھر میں دیکھوں گی کہ کون کون سی ایجنسی آ کر ان کے حالات و آلات کو نہ صرف چھپاتی ہے بلکہ خوشنما پھولدار و دھاری دار لباسوں میں ملفوف کرتی ہے۔ میں پوچھنا چاہتی ہوں ان مفت ہی صاحب سے کہ وہ چاہتے کیا ہیں؟ آخر میں نے ایسا کیا ہی کیا ہے؟ آج آپ سب کو میری ان ‘پوّتر’ عکس بندیوں میں کیڑے نظر آ رہے ہیں، اس وقت آپ کہاں تھے جب میں برقعہ پہن کر فوٹو شاپ کروا رہی تھی۔۔۔ کہاں تھے گبر سنگھ جی اس وقت جب میں نے تین تین گھنٹے کی فلموں میں دو وقت کی ‘پاؤ بھاجی’ کیلئے صرف ایک گانا کیا تھا۔۔۔۔ اس وقت آپ کا وہ ‘ضمیر’ کہاں سو گیا تھا جب میں نے کرکٹر کے چھکے چھڑانے کیلئے کئی بالز اچھالی تھیں۔۔۔کہاں مر گئے تھے آپ جب آپ کی یہ مسوم ایکس ٹریس اپنے ملک کی ‘مساجی تنظیموں’ کی فری مشوری کیلئے بگ بینگ کر رہی تھی۔۔۔۔۔ آپ کو میری آنکھوں سے برستی یہ برسات نظر آ رہی اب، لیکن میرے تن پہ موجود وہ ‘اِن ویزیبل’ کپڑے نظر نہیں آ ئے۔۔۔ آخر کیوں!۔

دیکھئے V صاحبہ، آپ رونا اور دھونا بند کیجئے پلیز۔۔۔ ہم نے آپ کا مقدمہ عوام کے بستر تک پہنچا دیا ہے، اب وہ ہی فیصلہ کریں گے کہ کیا یہ پبلسٹی سٹنٹ کام کر گیا یا ایک انوسینٹنی کے غیر انوسینٹ جذبات کو بھڑکایا گیا ہے یا پھر میگزین کھلنے کی منتظر ہے نگاہ!۔

Written by عمیر ملک

View all posts →

17 Comments

DuFFeR - ڈفر December 4, 2011 at 12:35 am
Reply

کلاسک پیس آف رائٹنگ
ونڈرفل 😀

عمیر ملک Author December 4, 2011 at 12:46 am
Reply

شکریہ جی شکریہ

انکل ٹام December 4, 2011 at 1:24 am
Reply

واہ ہاتھ آئی ایس ائی کا تھا اور جو انگلی تھی وہ کس کی تھی ؟

عمیر ملک Author December 4, 2011 at 10:36 am
Reply

D:
پہلے تو اشمیت پٹیل کی تھی۔۔۔۔ اب والی ذرا باہر تو آئے سٹوری!

یاسر خوامخواہ جاپانی December 4, 2011 at 3:58 am
Reply

ونڈر فلیاں لکھیاں ہیں جناب
دل خوش کردیا۔
بہت ہی عمدہ

عمیر ملک Author December 4, 2011 at 10:37 am
Reply

مہربانی!
نوازش!

عبدالقدوس December 4, 2011 at 7:42 am
Reply

یار اس نے جس کو بھائی کہا ہے اُس کو ڈونڈھ کر لاو بوتل شوتل پیلائیں اُسے 😀

عمیر ملک Author December 4, 2011 at 10:38 am
Reply

وہ تو کھانا بھی ایسے ہی کھاتا ہو گا۔۔۔ آپ بوتل پلا رہے ہیں بس۔۔۔

راجہ جی December 4, 2011 at 1:53 pm
Reply

صرف بوتل 😛

جعفر December 4, 2011 at 1:16 pm
Reply

اعلی ہے۔

عمیر ملک Author December 4, 2011 at 6:15 pm
Reply

شکریہ

راجہ جی December 4, 2011 at 1:52 pm
Reply

السلام علیکم
کمال انکشاف ہے اس خفیہ ہاتھ کا جس کا تذکرہ بارہا سنا تھا 🙂

عمیر ملک Author December 4, 2011 at 6:17 pm
Reply

وعلیکم السلام
سنا تھا، اب دیکھ لیا۔۔ اب ایک بار دیکھا ہے تو بار بار دیکھنے کی تمنا تو نہیں ہے نا۔۔۔! :پ

waqas December 7, 2011 at 1:47 pm
Reply

بھت عمدہ عمیر بھائ ۔۔۔ اسی طرح اچھا اچھا لکھتے رہیں آپ۔۔۔۔

عمیر ملک Author December 7, 2011 at 1:49 pm
Reply

شکریہ ۔ آنے کا اور بقلم خود کمنٹ کرنے کا۔

[…] وہ ہاتھ آئی-ایس-آئی کا […]

ناصر December 29, 2012 at 3:08 pm
Reply

اب ایک سال ہو چکا اس قصہ کو
انگلی باہر آ گئی تو اضافہ کریں معلومات اور معمولات میں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *