ٹیگ اٹیک

محترمی و مکرمی جناب شعیب صفدر صاحب نے ہمیں بھی اردو بلاگران کی ”ٹیگ زدگیوں“ میں شامل کر ہی لیا۔اس کے لئے میں ممنون ہوں کہ انہوں نے یاد رکھا۔ ٹیگ کرنے کا یہ کھیل دلچسپ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک رابطے کی صورت بھی بنا دیتا ہے۔ ہر بلاگ پہ دوسرے بلاگوں کے لنکس ملتے ہیں جو ایک کمیونٹی ہونے کا احساس دیتے ہیں۔ خیر۔۔ جوابات کا سلسلہ شروع کرتے ہیں: پڑھنا جاری رکھیں

سالگرہ کا دن آیا ہے

آج مجھے بلاگنگ کرتے ہوئے 3 سال ہو گئے ہیں۔ 13 جنوری 2009 کو میں نے اس میدان میں اپنا پہلا قدم رکھا تھا۔ اگرچہ اس دشت کی سیاحی میں بس دو چار گام کا فاصلہ ہی طے کر پایا ہوں لیکن بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ بہت سے لوگوں کر پڑھنے کا موقع ملا۔ اپنی بات کہنے کا سلیقہ آیا اور خاص طور پر اردو میں ٹائپنگ سپیڈ اچھی ہو گئی ہے۔ :) پڑھنا جاری رکھیں

11 جنوری 2009ء [ڈائری کا ایک ورق]

11 جنوری 2009ء

7:45 بعد دوپہر

لکھنے کیلئے ڈائری کھولی ہی تھی کہ لائٹ بند ہو گئی۔ شاید یو۔پی۔ایس کی چارجنگ بھی ختم ہو گئی ہے۔

11:45 بعد دوپہر

ابھی ڈیٹا سٹرکچرز کی تیاری کر کے فارغ ہوئے ہیں، سوچا (ڈائری) دوبارہ شروع کرتے ہیں۔ آج کل کمرے کا ماحول بڑا ادبی سا ہوا ہوا ہے۔ پڑھنا جاری رکھیں

بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟

ارے، آپ کو تو این سی اے (NCA) میں جانا چاہیئے تھا!
یہ وہ جملہ ہے جو کالج میں اور کالج کے بعد یونیورسٹی میں ہمیشہ مجھے سننے کو ملا۔ وجہ؟ وجہ آپ کو میرے بلاگ کو دیکھ کر بھی اندازہ ہو رہا ہو گا۔ اس کے بیک گراؤنڈ امیج میں موجود تمام اسکیچ میں نے بقلم خود بنائے ہیں۔ فی الحال جو ہیڈر لگا ہوا ہے، وہ بھی پنسل اور کاغذ پہ ہی بنا تھا۔ اور ۔۔۔۔ میں ایک کمپیوٹر انجینئر ہوں! پڑھنا جاری رکھیں

نئے سال کی صبح اول کے سورج [نظم۔ محسن نقوی]

ایک اور سال تمام ہوا۔ 2012ء کی صبحِ اول کے سورج کے نام محسن نقوی کی ایک نظم جو سال 2010ء کی آمد پر پہلے بھی شیئر کی تھی۔ایک بار پھر۔ :)

نئے سال کی صبحِ اول کے سورج!
میرے آنسوؤں کے شکستہ نگینے
میرے زخم در زخم بٹتے ہوئے دل کے
یاقوت ریزے
تری نذر کرنے کے قابل نہیں ہیں
مگر میں
(ادھورے سفر کا مسافر)
اجڑتی ہوئی آنکھ کی سب شعائیں
فِگار انگلیاں
اپنی بے مائیگی
اپنے ہونٹوں کے نیلے اُفق پہ سجائے
دُعا کر رہا ہوں
کہ تُو مسکرائے! پڑھنا جاری رکھیں