صرف ایک شعر
پتا نہیں کیوں اس شعر کو لکھے بغیر تسلی نہیں ہو رہی۔۔۔۔ اس لئے پیش خدمت ہے ایک شعر جو پتا نہیں کس شاعر کا ہے لیکن کمال ہے۔
سارا ہی شہر اس کے جنازے میں تھا شریک
تنہائیوں کے خوف سے جو شخص مر گیا
پتا نہیں کیوں اس شعر کو لکھے بغیر تسلی نہیں ہو رہی۔۔۔۔ اس لئے پیش خدمت ہے ایک شعر جو پتا نہیں کس شاعر کا ہے لیکن کمال ہے۔
سارا ہی شہر اس کے جنازے میں تھا شریک
تنہائیوں کے خوف سے جو شخص مر گیا
7:45 بعد دوپہر
لکھنے کیلئے ڈائری کھولی ہی تھی کہ لائٹ بند ہو گئی۔ شاید یو۔پی۔ایس کی چارجنگ بھی ختم ہو گئی ہے۔
11:45 بعد دوپہر
ابھی ڈیٹا سٹرکچرز کی تیاری کر کے فارغ ہوئے ہیں، سوچا (ڈائری) دوبارہ شروع کرتے ہیں۔ آج کل کمرے کا ماحول بڑا ادبی سا ہوا ہوا ہے۔[مکمل تحریر پڑھیں]
“جو بھی ہوتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہوتا ہے” ۔ اب پتا چلا یہ کس ہاتھ کی بات ہو رہی تھی۔ اگر آئی ایس آئی والا ہاتھ نہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا!؟۔
اس پھر کا پتا لگانے کیلئے رخ کرتے ہیں ‘جناب ملوانا مفت-ہی صاحب’ سے، جی مفت ہی صاحب آپ ہاتھ کے پیچھے والے ‘حالات’ کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
دیکھیں جی، اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے اور حالات کے پیچھے اور آلات کے آگے والے ہاتھ کے ہاتھ میں جو عزت ہوتی ہے وہ نظریں جھکانے اور ‘انگلیاں’ اٹھانے کا باعث بن سکتی ہے۔
[مکمل تحریر پڑھیں]
السلام علیکم
جی نہیں، میرا کوئی ارادہ نہیں ہے موجودہ حالات پہ سڑے دل کے پھپھولے پھوڑنے کا۔۔ اور نہ ہی میں کسی قسم کی بلاگ ووٹنگ کیمپین کیلئے حاضر ہوا ہوں ( کیونکہ یہ منہ مسور کی دال تو شاید کبھی چکھ لے لیکن ایوارڈ شیوارڈ جیسی ‘نعمتیں’ بہرحال اس کا مقدر نہیں ہیں ابھی! (یہ ‘ابھی’ بھی میں نے چوؔلن ہی لگایا ہے۔ ادھر ‘کبھی’ زیادہ مناسب ہے)) ۔
[مکمل تحریر پڑھیں]

السلام علیکم
ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں۔ ایک بلاگر جس کی عمر تقریباَ میرے جتنی ہے، قد کاٹھ بھی میرے جیسا ہی ہے، بول چال بھی میری طرح ہے، حرکتیں بھی ہو بہو ہیں۔۔۔۔ کئی دنوں سے اپنے بلاگ سے لا پتہ ہیں۔
اگر کسی صاحب یا صاحبہ کو پتا ہو تو اسی بلاگ ایڈریس کے پتے پہ پتا بھجوائیں اور شکریہ کا موقع وصول کریں۔
پی ایس: اگر یہ پوسٹ وہ خود پڑھے، تو فورا یہاں دفعہ ہو اور اس بلاگ سے اس ” لاوارثیت” کی کیفیت کو بھگائے، اسے کچھ نہیں کہا جائے گا (اگر بھاگنے کی وجہ یہی ہے کہ اسے کچھ نہیں کہا جاتا تو پھر اسے کچھ کہا جائے گا!) ۔

السلام علیکم
تمام قارئین کو دل کی اتھاہ گہرائیوں سے عید مبارک۔
میری ہمیشہ سے یہ خواہش تھی کہ میں اتنا فارغ ہو جاؤں کہ عید والے دن بھی اس موئے انٹرنیٹ پہ بیٹھا بلاگ لکھ رہا ہوں۔۔۔۔ پہلے میں نے یہ سوچا کہ عید والے دن ایک آدھ گھنٹا نکال کر لیپٹاپ چالو کیا جائے اور کسی بھی کونے میں بیٹھ کر کچھ لکھ دیا جائے اور ہو گیا! لیکن یہ صرف کہنا آسان تھا کیونکہ فی الحال میرا کوئی ذاتی کمرہ مختص نہیں ہے اور ہمارے گھر میں یہ اصول ہے کہ چھڑے چھانٹ لوگوں کو الگ کمرے کی کیا ضرورت۔۔۔ کسی بھی کمرے میں دو گز زمین میسر آئے تو بوریا بستر ( یا لیپ ٹاپ موبائل) اٹھاؤ اور وہاں چلے جاؤ۔ آجکل ہم ڈرائنگ روم کم سٹنگ روم میں رات کے وقت (یا کسی بھی وقت) سونے کے مجاز ہیں۔ لہٰذا عید کے روز تو اس طرح کی بیٹھک وغیرہ اس طرح بھری ہوتی ہے جس طرح عید سے ایک دن پہلے نائی کی دکان! اور حلوائی کی دکان پہ دادا جی کی فاتحہ تو ہو سکتی ہے لیکن نائی کی دکان پہ بلاگنگ۔۔۔۔ کبھی سنا نہیں۔ [مکمل تحریر پڑھیں]
ورڈ پریس ڈاٹ آرگ کے مطابق ورڈ پریس کا ورژن 3.2.1 ریلیز ہو چکا ہے۔ لیکن میرے ورڈ پریس ڈیش بورڈ پہ تو ابھی تک لیٹسٹ ورژن 3.0.1 ہی لکھا ہوا آ رہا ہے اور مزید اپڈیٹ کا آپشن موجود نہیں ہے۔ کیا کسی نے ورڈ پریس کو اپڈیٹ کیا ہے ابھی تک۔۔۔؟ اس بارے میں کوئی کچھ بتائے۔[مکمل تحریر پڑھیں]