3 Comments


  1. درویش جی ۔ آپ نے ایک بہت پرانی کہاوت یا د کرا دی ۔ کہتے ہیں کسی زمانہ میں (1947ء سے قبل) دہلی کے نواب قوالی کا اہتمام کرتے تھے ۔ خواتین بھی پردے کے پیچھے بیٹھ کر قوالی سُنا کرتیں ۔ ایک قوال اپنی لے میں آنے کی تیاری میں سُریں بدل رہے تھے اور یہ بول گاتے جا رہے تھے ”یہ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے ۔ ہاں یہ پردے کے پیچھے کیا ہو رہا ہے ۔ ہاں ہاں یہ پردے کے پیچھے یہ پردے کے پیچھے ۔ یہ کیا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ “۔ ایک بڑی بی آخر بولے بغیر نہ رہ سکیں ” تیری اماں بیٹھی چھالیہ کاٹ رہی ہے مُوئے“۔

    Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *