مارخور جنگلی بکرے سے ملتا جلتا ایک چرندہ ہے جو پاکستان میں گلگت بلتستان اور وادئ ہنزا سمیت شمالی علاقوں میں پایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ مارخور بھارت ‘افغانستان ،ازبکستان،تاجکستان اور کشمیر کے کچھ علاقوں ميں بھی پايا جاتا ہے. قدرت اور قدرتی وسائل کے تحفظ کی عالمی تنظیم ( IUCN ) کے مطابق اس نوع کو ان جانوروں میں شمار کیا جاتا ہے جن کا وجود خطرے میں ہے۔ بالغ مارخور تعداد میں 2500 سے بھی کم ہیں۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے۔
مزید معلومات کیلئے آپ میرا ترجمہ کردہ مکمل مضمون اردو ویکیپیڈیا پہ پڑھ سکتے ہیں۔
واہ بھئی ۔۔ دریش بھائی تو وکیپیڈین ہوچکے ہیں۔
نہیں یار، وکیپیڈین نہیں ہوئے۔ بس یہ نظر سے گزرا تو اس میں ترمیم و اضافہ کر دیا۔
معلومات بہم پہنچانےکا شکریہ
اگر پاکستان میں دہشت گردی کی وبا پھیلی رہی تو ایک دن انسان بھی نایاب ہوجائے گا۔
ماشإاللہ عمیر بھیا۔۔۔ میں سوچ رہا ہوں کے جب ماہ خور کی نسل اس زمین سے اپنے اختتام کو پہنچے گی تو کیا تب بھی یہی جانور ہمارا قومی جانور رہے گا؟ پھر خیال آیا اور دِل سے دُعا نکلی کہ اللہ کرے جب تک ماخور اس دُنیا میں ہے تب تک ہمارا وطن عزیز بھی قائم رہے :ُ
بھائی یہ تو بس 2500 رہ گئے ہیں۔۔۔۔۔ مارخور سے پاکستان نہیں، بلکہ پاکستان سے مارخور ہے۔۔۔۔۔
اچھا بلاگ ہے
ایسے ہی شیئرینگ کرتے رہا کیجئے
السلام علیکم
مارخور کا وجود کوہ سلیمان میں بھی پایا جاتا ہے ۔ یعنی ڈیرہ اسماعیل خان سے ژوب کی طرف سفر کریں تو راستے میںکوہ سلیمان کی پہاڑیاںآتی ہیں۔ جن کا ایک حصہ جنوبی وزیرستان میںشامل ہے ۔۔۔
شازل نے دہشت گردوں کی مشہور اصطلاحاستعمال کی ہے تو ۔۔۔ انسان تو نہیںان شاء اللہ ۔۔۔ اللہ کی نصرت سے کفر ضرور اس خطے سے نایاب ہو جائے گا
تبصرہ کرنے کا بہت شکریہ عرفان صاحب۔