بلاگی صورت حال

عمیر ملک

April 12, 2013

Share Article

آجکل عجیب سی صورت حال سے گزر رہا ہوں میں، جب بھی بلاگ پہ کچھ لکھنے کیلئے بیٹھتا ہوں تو ایک بیزاری سی چھا جاتی ہے اور ایسے لگتا ہے جیسے الفاظ ذہن سے باہر نکلنا ہی نہیں چاہ رہے۔ انگلیاں کی بورڈ پہ ناچتی ضرور ہیں لیکن اس رقص سے کچھ حاصل نہیں ہوتا، کوئی راضی نہیں ہوتا۔ لکھ لکھ کے مٹائے جاتا ہوں۔ اگر نہ مٹاؤں تو بھی بس مسودے ہی محفوظ کرتا ہوں۔ دو ہفتوں میں کوئی آدھا درجن ڈرافٹس بن چکے ہیں۔ عام طور پہ اگر میرے ذہن میں کچھ آئے یعنی”آمد“ ہو تو میں اپنے موبائل میں فورا نوٹ بنا لیتا ہوں۔ پھر جب بھی وقت ملتا ہے اس نوٹ کو دوبارہ پڑھتا ہوں اور اگر اس پہ مزید کچھ لکھنا چاہوں‌تو اس کو بلاگ پہ منتقل کر کے مزید لکھ لیتا ہوں۔ اس طرح بعض اوقات موبائل میں بنے نوٹس کی تعداد کافی ہو جاتی ہے اور کچھ موضوعات جو اس وقت اہم یا ”کلک” کرتے محسوس ہوتے ہیں، بعد میں بے جان لگتے ہیں یا ان پہ مزید لکھنے کو دل نہیں کرتا۔ اپنی موت مرتے ان ڈرافٹوں کی تعداد زیادہ ہوتی جا رہی ہے آجکل۔۔۔ کچھ بھی نظر ثانی میں پاس نہیں ہو رہا!
اب اسی پوسٹ کو دیکھ لیں۔۔۔۔۔ اس سے آگے کچھ نہیں لکھنے کو دل کر رہا۔ کیا آپ میں سے کوئی اور بھی اس صورت حال سے گزرتا ہے؟

Written by عمیر ملک

View all posts →

16 Comments

علی April 12, 2013 at 8:19 pm
Reply

ہمارا جھوٹا کھائیں۔ افاقہ ہو گا

عمیر ملک Author April 12, 2013 at 8:23 pm
Reply

دعوت کریں ناں ریگا میں ہماری۔۔۔۔ : )

شعیب صفدر April 12, 2013 at 8:49 pm
Reply

جی اپنا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے علی جہاں دعوت کرے تو وہاں مجھے بھی بلا لینا کچح افاقہ ہمارے حصہ میں بھی آ جائے۔

حجاب April 12, 2013 at 11:53 pm
Reply

آپ والی بیماری ادھر پہلے سے ہے موبائل میں کافی پوائنٹس محفوط ہیں لیکن بات آگے نہیں بڑھ سکتی ؛( لگتا ہے بلاگستان میں اس بیماری کے وائرس پھیل گئے ہیں ۔۔

حجاب April 12, 2013 at 11:54 pm
Reply

محفوظ ٌ

یاسرخوامخواہ جاپانی April 13, 2013 at 3:35 am
Reply

لکھنے کو دل کرتا ہے تو
ڈرافٹ نہیں بناتا لکھ کر فارغ کر دیتا ہوں۔
بہت کم ہوتا ہے، کہ لکھتے لکھتے اکتا کر دفعے کرو۔
کہہ کر لکھنا چھوڑ دیتا ہوں۔
یہ اچھا لکھنے والوں کے ساتھ ہونے والا مسئلہ لگتا ہے،
میرے جیسوں کو لکھنا ہوتا ہے یا لکھنا ہی نہیں ہوتا۔

کوثر بیگ April 13, 2013 at 12:19 pm
Reply

جی جی اکثر ایسا ہوتا ہے مگر ہمت کرکے کچھ توجہ دینے سے ایک چھوٹا سا نوٹ ایک مضمون میں تبدیل ہوجاتا ہے۔ بہت زیادہ بڑے مضمون بھی نامناسب لگتے ہیں۔اآپ جتنا بھی لکھے پوسٹ کردیا کریں۔۔۔

محمد سعد April 13, 2013 at 3:03 pm
Reply

یہ ایک خطرناک بیماری ہے جس کا سبب مطالعے کی کثرت ہے۔ جتنا زیادہ پڑھو گے، اتنا ہی یہ احساس پختہ ہوتا جائے گا کہ مجھے کچھ آتا ہی نہیں تو لکھوں کیا۔ 😉

Kka Pohegam August 1, 2014 at 1:41 am
Reply

بالکل صحیح

maha April 13, 2013 at 4:24 pm
Reply

isi ko kehtay hain k kuch na keh kr b buhat kuch kehna,,,ap nay tu buhat achi subjectivity likh di hy…..

دوست April 14, 2013 at 9:20 pm
Reply

تحریری قبض کبھی کبھی ہو جاتی ہے۔ کوئی بڑی بات نہیں۔ لکھنے کے سیزن ہوا کرتے ہیں کبھی بہت زیادہ اور کبھی کچھ بھی نہیں۔

Sarwat AJ April 15, 2013 at 10:07 pm
Reply

بالکل یہی علامات ہیں۔ اس کا حل ملے تو بتائیں۔ بلیک بیری، پرس، ھارڈ بورڈ، نوٹ پیڈ، ۔ ۔ ۔ہر جگہ ادھورے مضمون، جملے، کہانیاں، خیالات، بکھرے پڑے ہیں۔ اور ان سب سے بڑھ کے یہ ادھوری سوچیں جو الجھن کا سبب بنتی ہیں۔

رائے محمد اذلان April 16, 2013 at 6:52 pm
Reply

بھائی صورتِ حال کوئی انوکھی نہیں اکثر ایسا ہوتا ہے اس پر کچھ موسم کا بھی اثر ہو سکتا ہے آپ کا تو پتا نہیں اپنے کو تو بہار اداس کر چھوڑتی ہے۔ اور اداسی طھی ایسی کے کچھ کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ اور اس کچھ کرنے میں لکھنا لکھانا بھی ترک ہو جاتا ہے اور دل میں ایک آگ سی جلنے لگتی ہے انتقام کی آگ۔ بہار کی اداسی اور ساون کی چپ چپ ان شعراء کرام کو چن چن کر پھینٹی لگانے پر اکساتی ہے کہ جا ان دو موسموں کے عشق میں مبتلا ہو کر انکی قصیدہ گوئی کرتے رہتے ہیں۔

مانی April 28, 2013 at 5:18 am
Reply

ایسا ہوتا ہے اور کوئی ایسا ویسا نہیں ہوتا، یہ وقفہ برائے زہنی موت مہینوں پر محیط ہو جاتا ہے۔ بہرحال تندی باد مخالف سے نہ گھبرا اے عقاب

Kka Pohegam August 1, 2014 at 1:37 am
Reply

میرے ذہن میں جب کویٰ خیال سر اٹھاتا ہے تو اس کو اپنے فیس بک کے ایک خود ساختہ گروپ میں محفوظ کر لیتا ہوں۔۔۔۔یہ گروپ میرے لیے گھر کے پالتو سامان کے لیے مختص ایک گودام کی ظرح ہے ۔اس میں ہر قسم کا کباڑ ہوتا ہے ۔ آپ بھی اس سے مستفیید ہو سکتے ہیں ۔۔اگر آپ اپنے علاوہ کسی دوست سے اپنی تہیریر پر مشورہ لینا چاہتے ہوں تو انہیں بھی اس گروپ میں شامل کر لیں۔ گاہے بگاہے وہان تاک جھانک کرتے رہیں۔ اور اپنی تہریروں پر نیے سرے سے نظر ثانی کرتے رہیں۔۔

Kka Pohegam August 1, 2014 at 1:40 am
Reply

میرے ذہن میں جب کویٰ خیال سر اٹھاتا ہے تو اس کو اپنے فیس بک کے ایک خود ساختہ گروپ میں محفوظ کر لیتا ہوں۔۔۔۔یہ گروپ میرے لیے گھر کے پالتو سامان کے لیے مختص ایک گودام کی طرح ہے ۔اس میں ہر قسم کا کباڑ ہوتا ہے ۔ آپ بھی اس سے مستفیید ہو سکتے ہیں ۔۔اگر آپ اپنے علاوہ کسی دوست سے اپنی تحیریر پر مشورہ لینا چاہتے ہوں تو انہیں بھی اس گروپ میں شامل کر لیں۔ گاہے بگاہے وہاں تاک جھانک کرتے رہیں۔ اور اپنی تحریروں پر نیے سرے سے نظر ثانی کرتے رہیں۔۔
Reply

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *