بلا عنوان

عمیر ملک

January 27, 2013

eXam prep
Share Article

eXam prep
میں، کتابیں اور انٹرنیٹ

لُوپ اَنٹل اِنفینیٹی
رات کے پونے دو بجے ہیں اور میں اپنے سامنے امتحان کی تیاری کا سارا سامان کھولے بیٹھا ہوں۔ چیپس کا پیکٹ، بھاپ اڑاتا مگ، چاکلیٹس، ٹک ٹک کرتی گھڑی، لیپٹاپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اوہ ہاں! کتاب، نوٹس، قلم دوات وغیرہم بھی پاس ہی رکھے ہیں۔ لیکن میں سوچ کچھ اور رہا ہوں۔ کبھی میں لیپٹاپ کھول کے یہ دیکھتا ہوں کہ کوئی ای میل تو نہیں آ گئی “ضروری” والی۔ پھر یونہی ذرا ازراہ تفنن ہلکی سی فیس بک پہ نظر ڈال لیتا ہوں۔ اوہ ایک نوٹیفیکیشن! اوہ ہ ہ ۔۔ اچھا یہ تو کسی اور نے کمنٹ کیا ہے۔ہمممم۔ دفعہ کرو اس فیس بک کو۔ اصلی والی بُک کھولو۔ چار لفظ پڑھے اور ساتھ ہی ایک گھونٹ چائے کا لگایا، اوہو چینی تو ڈالنا ہی بھول گیا۔ نہیں یہ تو نہیں ہو سکتا، چینی تو میں نے ضرور ڈالی ہوگی۔ ارے ہاں، چمچ ہلانا بھول گیا تھا۔ اٹھ کر چمچ لینے گیا، واپسی پہ بس یونہی فریج بھی کھول کے دیکھ لیا۔ کیا پتا کوئی اپڈیٹ کر گیا ہو سٹف!
یہ ٹماٹر پتا نہیں کب سے پڑے گل رہے ہیں فریج میں۔ کل انہیں سالن میں ڈالنا ہے ضرور ورنہ خراب ہی ہو جائیں گے۔ بھلا کیا پکانا چاہیئے کل۔ ویسے تو امتحان ہیں، فرصت نہیں ملے گی درمیان میں۔ چکن بنا کے رکھ لوں گا کل۔ ہاں یہ سہی ہے۔ بہت دن ہوئے چکن نہیں ٹرائی کیا۔ یہ سوچتے ہوئے واپس کمرے میں آیا اور آتے ہی چکن بون لیس ہانڈی لکھ کے گوگل کیا۔ بس “سرسری” سا دیکھا کہ کیا طریقہ ہے۔ مزید وقت نہیں ضائع کرنا چاہیئے، باقی ترکیب کل دیکھ لیں گے۔ ویسے بھی سارے سالن ایک ہی طرح بنتے ہیں۔ مصالحہ بھونا اور جو پکانا ہے ڈال دو۔ اللہ اللہ خیر صلہ!۔
اوہ یہ کس نے چیٹ میں آواز لگائی۔ اوہ، یہ تو مُوبی ہے۔ ایویں ای ٹائم ضائع کرے گا اب۔ لکھ دیتا ہوں کہ یار میرا ایگزام ہے، سو آئی ایم بِیزی۔ویسے موسم کیسا ہے وہاں؟
ارے واہ، کب؟ نا کررر۔۔۔ تو پھر تو نے کیا کہا؟
صحیح کیا۔ اس کو ایسا ہی جواب دینا چاہیئے تھا۔ ۔۔۔۔۔۔۔
۔۔اچھا چل اب مجھے پڑھنے دے۔
اس چیٹ کو تو آف لائن ہی کر دینا چاہیئے۔
لیپٹاپ میں سلائیڈز کھولیں۔ 4 سلائیڈز تواتر سے گزریں، ہاتھ بڑھا کے مگ اٹھایا۔ اوہ! یہ تو پڑی پڑی ٹھنڈی ہو گئی۔
گرم کر کے لایا۔ پہلے اسے ختم کر لینا چاہیئے، ورنہ پھر بد مزہ ہو جائے گی۔
اِن دا مین ٹائم، وہ جمعرات والا شو تو دیکھا ہی نہیں تھا۔ چائے کے ساتھ ذرا کتوں کی لڑائی بھی دیکھ لیں، ٹائم پاس کر لیتے ہیں۔ یوٹیوب کھولی اور شو لگا لیا۔ چپس، چائے اور شو۔
یہ فیسبک پہ کیا نیا آ رہا ہے۔ دیکھوں تو ذرا۔ہممم۔۔۔ لائک۔ شیئر۔
ہاہاہہاہاہا۔۔ کیا کمنٹ کیا ہے چول نے۔ ابھی خبر لیتا ہوں۔
چیٹ: اوئے کنجر، یہ کیا لکھا ہے تو نے۔
لولز۔ ۔۔۔۔
بلاگر کیا کہہ رہے ہیں۔۔ ان کو بھی دیکھ لو۔ ان کا اپنا ہی رونا لگا رہتا ہے بس۔ ارے ہاں، کانفرنس ہو رہی تھی ناں آج تو۔ ہممم۔ لائک۔ ریفریش، نیکسٹ!
چلو اب ذرا پڑھائی کانٹینیو کریں۔

جَمپ ٹو ٹاپ؛
بریک ؛ //(اِف ایور)

Written by عمیر ملک

View all posts →

30 Comments

یاسر خوامخواہ جاپانی January 27, 2013 at 6:56 am
Reply

اور رزلٹ آگیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چلو اگلے سال دیکھ لیں گے۔
ایسی بھی کیا جلدی ہے

عمیر ملک Author January 28, 2013 at 12:16 am
Reply

شکریہ۔۔،،۔۔ رزلٹ پہ زیادہ اصرار نہ کرنے کا۔

مانی January 27, 2013 at 7:03 am
Reply

کہانی بچے بچے کی۔ کبھی نہ کبھی دل لگ ہی جائے گا پڑھائی میں بھی

عمیر ملک Author January 28, 2013 at 12:17 am
Reply

کبھی کب آئے گی یہ والی۔۔۔ اب تو دل میں لگنے کی سکت ہی ختم ہوتی جا ری۔۔ کجا کہ پڑھائی مین لگے۔

جعفر January 27, 2013 at 10:52 am
Reply

عمیر میاں، مستقل لکھنا چاہیے تمہیں۔ یو ہیو سمتھنگ ویری یونیک۔

عمیر ملک January 27, 2013 at 7:23 pm
Reply

بہت شکریہ۔ بس اپنی سی کوشش جاری رکھتا ہوں

غلام عباس مرزا January 27, 2013 at 11:39 am
Reply

شروع میں آپ نے جو کنڈیشن لگائی ہے اسے کب تک ہولڈ کرنا ہے۔

عمیر ملک Author January 27, 2013 at 11:55 pm
Reply

انفینیٹی۔۔

ڈفر - DuFFeR January 27, 2013 at 11:39 am
Reply

یار ایک دم مزے دار
اور وہ بھی مزیدار سچ
تو سچا اور پکا سٹوڈنٹ ہے
ایک دم فارغ لوگوں کی بھی یہی کہانی ہے
لیکن ٹینشن پرچے کی بجائے کچھ بھی نہ ہونے کی ہے 😀

عمیر ملک Author January 27, 2013 at 11:58 pm
Reply

شکریاز۔۔۔ سچے تے پکے سٹوڈنٹ تو ہونا ہی ہے۔ آخر عمر گزری ہے اسی دشت کی سیاحی میں!

انکل ٹام January 27, 2013 at 12:06 pm
Reply

مجھے لگا کہ مین پنے امتحان کی تیاری کر رہا ہوں‌

عمیر ملک Author January 27, 2013 at 11:59 pm
Reply

مجھے بھی یہی لگتا ہے کہ میں تیاری کر رہا ہوں۔۔ لیکن میں یہ کر رہا ہوتا ہوں اصل میں۔۔ ط:
تبصرہ کرنے کا شکریہ

عمران اقبال January 27, 2013 at 12:33 pm
Reply

زبردست۔۔۔ مزہ آ گیا پڑھ کر۔۔۔

عمیر ملک Author January 28, 2013 at 12:00 am
Reply

شکریہ

ضیاء January 27, 2013 at 12:43 pm
Reply

یہ تو لگتا تاریخی سین ہے ۔۔۔ ہاں ہمارے وقت کمپوٹر اور فیس بک نہیں تھا ۔۔۔۔ لیکن تاش کے پتے اور کمبائنڈ سٹڈی کا تو اپنا ہی مزہ ہوتا تھا۔۔۔ بہت خوب لکھا ہے

عمیر ملک Author January 28, 2013 at 12:10 am
Reply

ہاں اس میں کمبائینڈ سٹدی کا ذکر نہیں کیا۔ وہ پھر کبھی۔ اس کی تو داستان ہی الگ ہوتی ہے۔ ط:
تعریف کا شکریہ۔

افتخار راجہ January 27, 2013 at 2:07 pm
Reply

یہ تو تاریخی دستاویز ہے، اس سے آنے والی نسلوں‌کو علم ہوگا کہ ہم لوگ ترقی کیوں نہ کرسکے اور جو کی وہ بھی الٹی، ہیں‌جی

عمیر ملک Author January 28, 2013 at 12:11 am
Reply

یہ آپ نے تعریف تو نی کی۔۔ ہے ناں! :س

فضل دین January 27, 2013 at 4:49 pm
Reply

ہاہاہا۔۔
کہانی گھر گھر کی۔۔۔۔
زبردست جناب

عمیر ملک Author January 28, 2013 at 12:12 am
Reply

شکریہ بہت آپکا،

علی January 27, 2013 at 7:29 pm
Reply

میں سمجھا ادھر ایسٹونیا میں ایسی پڑھائی ہوتی ہے پر اب تسلی ہوئی جرمنی کا حال بھی ایسا ہی ہے

عمیر ملک Author January 28, 2013 at 12:14 am
Reply

ہاہاہاہہاہاا،،،، ہر جگہ ایسے ہی ہوتی۔۔۔ ادھر جرمنی میں کونسا ہم جرمن بن جاتے۔۔ جو لیکچر کے بعد گھر آ کر استاد سے بھی زیادہ پڑھ لیتے ہیں!

وسیم رانا January 28, 2013 at 11:29 am
Reply

ایویں سب کی ہنسی چھڑوا دی آپ نے۔۔۔۔ کیونکہ ہم سب اسی لائن میں ہیں۔

عمیر ملک January 28, 2013 at 10:49 pm
Reply

لائن بہت لمبی ہے جئ یہ۔
تشریف لانے کا شکریہ۔

رائے محمد اذلان February 9, 2013 at 6:31 pm
Reply

بھئی اس ھلکی پھلکی تحریر کو پڑھ کے مزا آگیا اور اپنا زمانہِ امتحانات یاد آ گیا. اور کالج کے دنوں میں پڑھا ایک مضمون بھی کہ جسمیں بحث تھی کہ کیسے اور کیوں طلبہ کالج میں فیل ہو جاتے ہیں. آپ کے لئے دعا گو ہیں کہ آپ نے وہ سلسلہ پھر کنٹینئو ہی رکھا ہو اور نتائج میں آپ کو کامیابی حاصل ہو.

سعد February 10, 2013 at 8:38 am
Reply

آپ نے سٹوڈنٹوں کی دلی کیفیت کی زبردست عکاسی کی ہے جب وہ پڑھنے بیٹھتے ہیں۔ دلچسپ لکھا

پردیسی February 10, 2013 at 9:26 pm
Reply

بہت خوب اور منفرد

پردیسی February 10, 2013 at 10:45 pm
Reply

یہ ٹیسٹ تبصرہ ہے

عمیر ملک February 10, 2013 at 10:48 pm
Reply

یہ ٹیسٹ جواب ہے۔
لیکن ٹیسٹ تبصرہ کرنے کی کیا وجہ بنی؟!
حوصلہ افزائی کا شکریہ

پردیسی February 11, 2013 at 2:45 am
Reply

اصل میں سچ پوچھیں تو میں نے ایک تجربہ کیا تھا اپنے بلاگ کے تبصرے کے خانے سے کہ۔۔ بغیر سپامنگ کے ورڈ پریس تو ورڈ پریس سیلف ہوسٹنگ بلاگ پر ایک بلاگ سے دوسرے بلاگ پر تبصرہ ہو سکتا ہے یا نہیں ۔۔۔ سو آپ کے سامنے ہے (:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *