ایک بار پھر۔۔

عمیر ملک

June 5, 2012

Share Article

ایک طویل عرصے کے بعد انگلیوں سے اردو پھسل رہی ہے۔ میرے بلاگ پہ موجود گنتی کی تحاریر میں کوئی ڈیڑھ درجن تو انہی الفاظ سے شروع ہوتی ہیں ” بہت عرصے بعد، کافی دن بعد، کئی ماہ بعد، ایک سال بعد، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔“ اصل میں مَیں اور مجھ جیسے کئی اور اردو بلاگر پارٹ ٹائم بلاگروں کی فہرست میں بھی نہیں فٹ آ سکتے، میں جتنی مرضی کوشش کر لوں تب بھی سال میں کم از کم 6 مہینے میرا بلاگ ”ہائبرنیشن“ (Hibernation) میں گزار دیتا ہے۔ اور جیسے ہی کوئی برساتی یا ترساتی ( برسنا کے برمحل لفظ ترسنا سے ترساتی) موسم آتا ہے تو ڈڈوؤں کی طرح انگلیاں کی بورڈ پہ پھدکنے لگتی ہیں۔ حروف کے انڈوں میں سے الفاظ کے ہزاروں ”ٹیڈ پول“ (Tadpoles) جنم لیتے ہیں لیکن ان ہزاروں میں سے چند سو ہی بلاگ کے کنارے پہنچ کر تحریر کی شکل میں جوان ہوتے ہیں۔
ہمیشہ کی طرح ذہن پھدکتے ہوئے کہیں اور نکل گیا۔ بتانا تو یہ مقصود تھا کہ اس طویل غیر حاضری کی وجہ کوئی مصروفیت وغیرہ نہیں بلکہ ویلا پن تھا۔ میں اتنا ویلا تھا کہ بہٹھ کے کچھ لکھنے پڑھنے کا ٹائم ہی نہیں تھا۔ اب جبکہ سب کچھ اپنی مخصوص ڈگر پہ رواں ہو چلا ہے، میں کافی حد تک مصروف ہو گیا ہوں، پڑھائی شروع کر لی ہے، روٹین بن گئی ہے، تو اب میں خاص طور پہ آپ لوگوں کیلئے اپنے قیمتی اور مصروف ٹائم میں سے “وقت” نکال کر لکھنے بیٹھا ہوں۔ ایسا کرنے کے بہت سے فوائد ہیں مثلا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب کچھ نہیں ملا تو بلاگنگ شروع کر دی!!۔
آپ میں کچھ فیس بکی قارئین آلریڈی جانتے ہوں گے کہ میں بھی اب ”ایکسپیٹریئیٹ “ لوگوں میں شامل ہو چکا ہوں، جیسا کہ اکثر اردو بلاگر ہوتے ہیں۔ وفاقی جمہوریہ جرمنی سے یہ میری پہلی تحریر ہے۔ میں یہاں ‘اعلیٰ تعلیم’ کے حصول کیلئے تشریف لایا ہوں۔ مجھے یہاں آئے ایک ماہ ہونے کو ہے۔ بڑے بڑے بلاگرز کی طرح میں بھی اپنا ” سفرنامہ“ جلد ہی شایع کروں گا۔ 🙂

Written by عمیر ملک

View all posts →

17 Comments

علی June 5, 2012 at 9:08 pm
Reply

ارے!!!!!
کتھے مہر علی کتھے میری ثنا
حضور یہ تو اتفاق سے بڑے پر کلک کر دیا جناب والا ہم جمعہ جمعہ آٹھ روزہ بلاگر چھوٹے ہی اچھے ۔
گناہ گار نہ کریں۔

عمیر ملک Author June 5, 2012 at 9:24 pm
Reply

آپ کسر نفسی سے کام لیں یا نہ لیں۔ سفرنامہ تو اب آپ لکھ بیٹھے ہیں۔ دوسرے صاحب جن کا سفرنامہء جرمنی میں پڑھ رہا تھا ان کا نام مجھے یاد نہیں آیا۔۔۔۔

منیر عباسی June 5, 2012 at 9:53 pm
Reply

یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ بڑے ہی عرصے بعد کسی اوردو بلاگ پر کمنٹ کرنے کو جی چاہا۔ ماشا ء اللہ سے سارے ہی اپنی تحریر میں‌ اتنا دم خم دکھا جاتے ہیں‌کہ فیر تبصرے کو ہمت نی پڑتی۔

سوچا جب آپ نے چُپ کا روزہ توڑا تو فیر میں‌وی توڑ دوں۔ ہیں‌جی؟؟

عمیر ملک Author June 5, 2012 at 10:03 pm
Reply

جناب آپ کی بڑی نوازش ہے۔ آپ بھی دم خم دکھایا کریں، اور رکھا کیا ہے چار دن کے انٹرنیٹ میں۔۔۔
اب میں اور آپ مل کر خاموشی کا بائیکاٹ کریں گے۔ ط:

جعفر June 5, 2012 at 10:25 pm
Reply

پیار اور معصوم سا لکھا ہے۔ سڑیل اور کُھنڈ بلاگروں کے بیچ تازہ بلاگی جھونکا ہے یہ۔

عمیر ملک Author June 5, 2012 at 10:59 pm
Reply

لگتا ہے بلاگستان میں کوئی حالیہ گھمسان کا رن پڑا ہے۔۔۔ ؟تعریف کا بہت شکریہ۔

عمر June 6, 2012 at 11:13 am
Reply

بہت ہی عمدہ تحریر ہے

عمیر ملک Author June 6, 2012 at 2:43 pm
Reply

بہت شکریہ۔

ابوشامل June 6, 2012 at 4:41 pm
Reply

لو جی ملک صاحب ’جانو جرمن‘ بن گئے۔ مجھے انتظار رہے گا کہ آپ ہماری جرمنی کے بارے میں معلومات میں کتنا اضافہ کرتے رہیں۔ جیتے رہیے 🙂

عمیر ملک Author June 6, 2012 at 5:04 pm
Reply

شکریہ فہد بھائی۔
انشا اللہ جلد ہی اس بارے میں مزید لکھوں گا۔

خورشید آزاد June 7, 2012 at 7:27 am
Reply

میرا بھی یہی حال ہے جناب۔ ویسے آپ جس طرح دھوم دھام سے بلاگستان میں وارد ہوئے تھے اور جس طرح ابتداء میں آپ نے بلاگر پر اپنا بلاگ بنانے کی تگ و دو کی تھی اور پھر آپ کے لکھنے کا اپنا انوکھا انداز اس سے تو یہی لگ رہا تھا بلاگستان کو ایک اور بلاگر مل گیا ہے۔

میرے خیال میں ہمارے ساتھ مسلئہ یہ ہے کہ ہم سوچتے بہت ہیں اور ایک ذاتی بلاگ کے لیے لکھتے ہوئے اگر آپ سوچیں گے کہ کیا لکھنا ہے تو سمجھیئے آپ نے اپنے تخلیقی کیڑے کو خود زہر دے کر ماردیا۔

ایک بار پھر بلاگ کی دنیا میں قدم رکھنے پر مبارک ہو۔

عمیر ملک Author June 8, 2012 at 1:40 am
Reply

شکریہ جناب۔ بس ایسا ہی کچھ ہے۔ بلاگستان کو کیا بلاگر ملنا ہے، ہمیں بلاگستان مل گیا۔۔۔

حجاب June 7, 2012 at 11:54 pm
Reply

بہت دن بعد کچھ اچھا پڑھنے کو ملا ۔۔ ویلے رہ کے دماغ اتنا چلتا ہے واہ ۔۔۔۔۔۔ امید ہے لکھتے رہیں گے ویسے بلاگستان میں کافی عرصے سے کوئی گھمسان کارن نہیں پڑا بے لطف پڑی ہے بلاگی دنیا ۔۔

عمیر ملک Author June 8, 2012 at 12:04 am
Reply

بہت شکریہ۔
بلاگستان کی بے لطفی کا فائدہ مجھ جیسے لوگوں کو مل گیا۔ سب ہی تعریف کر رہے ہیں۔ سب کا بہت شکریہ۔۔۔ ط:

عادل بھیا June 12, 2012 at 10:51 pm
Reply

عمیر بھیا آپکی کوئی بھی تحریر دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ معزرت کے لیٹ ہوگیا۔۔۔ یہ جو نیا لارا لگا گئے آپ اِس تحریر میں اُسکا انتظار رہے گا

عمیر ملک Author June 12, 2012 at 11:13 pm
Reply

بڑی مہربانی جناب۔

[…] تو اس کا دائرہ فکر مزید بڑھ چکا تھا۔ راستے میں کوئی پانچواں درویش نہیں ملا، البتہ کئی چھوٹے چھوٹے گلیشیئر آ رہے تھے مگر […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *