فیچرڈ پوسٹ: کثیر الشخصیاتی عارضہ

عمیر ملک

August 5, 2010

Share Article

کثیر الشخصیاتی عارضہ یعنی Multiple Personality Disorder کے متعلق شاید آپ نے سنا ہو، کم از کم وہ خواتین و حضرات جو ہالی وڈ کی فلموں کا ذوق رکھتے ہیں وہ ضرور واقف ہوں گے کیونکہ کئی فلمیں اس موضوع پر بنائی جا چکی ہیں۔ جیسا کہ یہ والی اور یہ والی، اور اب یہ والی بھی آ گئی ہے۔
یہ ایک ذہنی اور نفسیاتی بیماری ہے اور جیسا کہ نام سے ہی حاضر ہے کہ اس میں انسان کی شخصیت مختلف حصوں میں تقسیم ہو جاتی ہے اور وہ ایک شخصیت کی بجائے کئی شخصیات کا مجموعہ بن جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ شخصیات ایک دوسرے سے قطعی مختلف ہوتی ہیں اور انسان کسی ایک یا زیادہ شخصیات کے اثر میں رہتا ہے۔ ان مختلف شخصیات کو انسان کا ‘ آلٹر’ (Alter) یعنی ‘متبادل’ کہا جاتا ہے۔
اب آتے ہیں اصل بات کی طرف، اگر دیکھا جائے تو ہم بحیثیت قوم اصل میں اسی عارضے کا شکار ہیں۔ ہماری شناخت بھی کئی حصوں میں بٹ چکی ہے۔ کبھی ہم مسلمان ہوتے ہیں، کبھی پاکستانی، کبھی سندھی، پنجابی، بلوچی یا پٹھان ہوتے ہیں، کبھی شدت پسندی غالب آ جاتی ہے تو کبھی روشن خیالی، اور بعض اوقات ہم کچھ بھی نہیں ہوتے!
کچھ دن پہلے میں نے ایک انگریزی ناول نگار سڈنی شیلڈن کا ایک ناول پڑھا جو کہ اسی موضوع پر لکھا گیا ہے۔ اس ناول کی ہیروئن بھی کثیرالشخصیاتی عارضے میں مبتلا ہوتی ہے اور کئی متصادم شخصیات کا مجموعہ بن جاتی ہے۔ ان منفی شخصیات کے زیرِ اثر وہ کئی سنگین جرائم کا ارتکاب کر بیٹھتی ہے۔ اس کے علاج کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ اس کے ان تمام ‘متبادلوں’ کو آمنے سامنے لایا جائے اور ان کے درمیان مباحثہ ہو اور ان سب میں ہم آہنگی پیدا کی جائے تا کہ کئی شدت پسند شخصیات کی بجائے ایک متوازن اور مکمل شخصیت کا ظہور ہو۔
یہی ہمارا بھی علاج ہے۔

یہ تحریر میں نے 8 ستمبر 2009ء کو لکھی تھی۔ آج پرانے محفوظات دیکھتے ہوئی نظر سے گزری تو سوچا کہ دوبارہ چھاپنی چاہیئے۔ اصل ربط یہ رہا، ویسے اوپر مکمل تحریر من و عن لکھ دی ہے۔

Written by عمیر ملک

View all posts →

6 Comments

[…] This post was mentioned on Twitter by Urdu Blogz, Umair Malik. Umair Malik said: فیچرڈ پوسٹ: کثیر الشخصیاتی عارضہ: کثیر الشخصیاتی عارضہ یعنی Multiple Personality Disorder کے… http://goo.gl/fb/pArSy […]

یاسر خوامخواہ جاپانی August 5, 2010 at 5:20 am
Reply

تو کا مطلب ھے۔سائیں جی قابل علاج ہیں؟لیکن یہ علاج کونسا معالج کرے گا؟

یاسر خوامخواہ جاپانی August 5, 2010 at 5:21 am
Reply

تو اس کا مطلب ہے

شازل August 5, 2010 at 7:13 am
Reply

درست تجزیہ فرمایا
سڈنی شیلڈن کے ذکرسے ایک ناول یاد آگیا۔
جنون کے نام سے اقبال پاریکھ صاحب نے ترجمہ کیا تھا
اگر آن لائن مل سکے تو کیا کہنے

عثمان August 5, 2010 at 7:47 am
Reply

فلموں کا لنک دے کر اچھا کیا۔
ریویو پڑھوں گا۔ اچھی لگی تو دیکھوں گا۔
اور اگر یہ پوسٹ پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات پر ہے تو۔۔۔
سانوں کی۔

عین لام میم August 5, 2010 at 7:11 pm
Reply

::جاپانی:: ناول کی رو سے تو تفسیاتی ڈاکٹر سے رجوع کرنا ہو گا۔۔ لیکن پہلے یہ تسلی کر لیں کہ ڈاکٹر اس عارضے میں مبتلا نہ ہو۔
::شازل:: کیا پتا کسی دوکان یا لائبریری میں مل جائے۔۔ دیکھوں گا۔ شکریہ
::عثمان:: اگر آپ ’دستخط‘ نہ لکھتے نیچے تو میں نے آپکے خلاف منافقت کا رولا ڈال دینا تھا۔ D:

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *