نوسٹیلجیا – Nostalgia

عمیر ملک

September 22, 2011

Share Article

انسان کی زندگی میں خواہشات کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ کی پرواز کبھی اس کی ‘اوقات’ کی پابند نہیں ہوتی اور ہمیشہ حدود و قیود سے آزاد ہو کر بلند ہوتی ہے۔ معاشرے کی بقا اور ترقی اسی پرواز کی محتاج ہے۔ لیکن اس پرواز کے ساتھ ایک اور احساس بھی بیدار ہوتا ہے جسے انگریزی میں نوسٹیلجیا (Nostalgia) اور اردو میں پتا نہیں کیا کہتے ہیں (ماضی پرستی؟) ۔ انسانی فطرت کسی حال میں بھی خوش نہیں رہنے دیتی اور ماضی کی یاد اس کو دیوانہ کیے رکھتی ہے۔
خیر وقت وقت کی بات ہے، اسی بات پہ ابنِ انشاء کی ایک خوبصورت نظم جو ہمیشہ سے میری پسندیدہ رہی ہے۔

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا میں جن دنوں

ایک میلے مین پہنچا ہُمکتا ہوا

جی مچلتا تھا ہر اک شے پہ مگر

جیب خالی تھی کچھ مول لے نہ سکا

لوٹ آیا لئے حسرتیں سینکڑوں

ایک چھوٹا سا لڑکا تھا  میں جن دنوں

خیر، محرومیوں کے وہ دن تو گئے

آج میلہ لگا ہے اسی شان سے

جو چاہوں تو اک اک دکاں مول لوں

جو چوہوں تو سارا جہاں مول لوں

نارسائی کا جی میں اب دھڑکا کہاں

پر وہ چھوٹا سا، الہڑ سا لڑکا کہاں!۔

Written by عمیر ملک

View all posts →

6 Comments

افتخار اجمل بھوپال September 23, 2011 at 6:58 am
Reply

اسے ” فُرقتِ ماضی ” کہتے ہيں

عمیر ملک Author September 23, 2011 at 8:21 pm
Reply

بہت شکریہ افتخار صاحب۔

رضوان September 23, 2011 at 12:23 pm
Reply

مشتاق احمد یوسفی صاحب نے اس کے لیے ایک بہترین اصطلاح وضع کی ہے
” یادش بخیریا”
افتخار اجمل صاحب نے بھی خوب ترجمہ کیا!

عمیر ملک Author September 23, 2011 at 8:32 pm
Reply

واہ! یادش بخیریا۔۔۔ یہ کمال کا ترجمہ ہے۔
بلاگ پر خوش آمدید۔

نورمحمد October 4, 2011 at 12:21 pm
Reply

بچپن یاد دلایا آپ نے ۔ ۔ ۔

[…] نوسٹیلجیا – Nostalgia […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *