معصومیت

عمیر ملک

October 3, 2009

Share Article
آج کل اگر بچوں کو پرانی کہانیاں سنائی جائیں تو ان کو کسی بات کا یقین نہیں آتا۔ طرح طرح کے سوالات کرتے ہیں، یہ کیسے ہوا؟ وہ کس طرح ہو سکتا ہے؟ اسے کیسے پتا تھا؟ وغیرہ وغیرہ۔
ایک ہم تھے کہ مجال ہے جو یہ بھی پوچھ لیں کہ یہ ” پودنے ” کے کان میں اتنے سارے جانور کیسے آ سکتے ہیں اور یہ ” پودنا” ہوتا کیا ہے!
میں نے اپنے بھتیجے سے یہ کہہ دیا کہ یہ جو کارٹون میں روبوٹ دکھائے جاتے ہیں ، یہ اصل میں ایسے نہیں ہو تے۔ اس نے جواب دیا کہ یہ تو ٹونٹی سیکنڈ سینچری کے روبوٹ ہیں، جب ہم وہاں جائیں گے تو ایسے ہی ہوں گے!!
اس کی عمر محض ساڑھے پانچ سال ہے اور اسے یہ لفظ تو پتا ہے لیکن اس کا مطلب بالکل نہیں پتا۔ ۔ ۔۔ ہاں، جیسے اس نے یہ بات بتائی ہے اس سے اس کے اس بات پہ یقین میں کوئی شک ظاہر نہیں ہوتا۔
الف لیلیٰ میں الہٰ دین کے قالین کے بارے میں سوال اٹھایا گیا کہ اس کی سپیڈ یعنی رفتار کتنی تھی!۔ ۔ ۔ ۔
کیا عمرو عیار کی زنبیل میں صوفہ سیٹ، چاچو کی گاڑی، فریج اور ہوائی جہاز آ سکتے تھے؟۔ ۔ ۔ ۔
یہ دیو کیا ہوتا ہے؟ کتنا بڑا ہوتا ہے اور کیا اس نے الہٰ دین پہ میزائل سے حملہ کیا تھا؟۔ ۔ ۔ ۔
وہ تو پانی کی بوتل بھی وہ پسند کرتے ہیں جس میں بٹن دبانے سے ڈھکن کھلتا ہے۔۔ ۔۔ ۔ !!

Written by عمیر ملک

View all posts →

3 Comments

yasirimran October 4, 2009 at 12:31 pm
Reply

صحیح فرما رہے ہیں آپ ، آج کل کے بچے بہت تیز ہو گئے ہیں، تاہم معصومیت ان میں کسی حد تک باقی ہے ہی۔ شکریہ

عین لام میم October 4, 2009 at 11:40 pm
Reply

بلاگ پر خوش آمدید یاسر۔۔

DuFFeR - ڈفر October 6, 2009 at 12:44 am
Reply

او سر جی آج کل کے بچے بڑے آٹو میٹڈ ہیں
ان بچوں کے ساتھ ایک مینوئل بھی ہونا چاہیے کہ ان کو استعمال کیسے کرنا ہے
ورنہ یہ نہیں سنبھلنے والے
کم از کم مجھ سے تو نہیں
😀

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *