ڈائری لکھنا

عمیر ملک

June 16, 2010

Share Article

 ڈائری لکھنے کا شوق تو مجھے صرف اس لئے پیدا ہوا تھا کہ بچپن میں  کئی کہانیوں میں  پڑھا تھا کہ ہیرو کو کہیں کسی خفیہ خانے یا دراز میں سے ایک عدد پاگل سائنسدان یا بوڑھے جادوگر یا اسی طرح کے کسی کردار کی ایک خفیہ ڈائری مل جاتی تھی اور اس میں نلکا ٹھیک کرنے سے لے کر آبِ حیات پانے تک سب کا راز  لکھا ہوتا تھا۔ سوچتا تھا کہ شاید اگر آپ ڈائری خرید لیں تو خود بخود ہی “راز کی باتیں” آپ پر آشکار ہونا شروع ہو جاتی ہیں اور آپ بھی کوئی کیمیا گری کی کتابِ  لکھ ڈالتے گے۔ لہٰذا سب سے پہلی کنواری ڈائری جو میں نے پہلے صفحے پر  باقاعدہ اپنا نام لکھ کر شروع کی وہ بڑے بھائی کی خفیہ الماری سے چوری کی تھی۔ میرے بھائی کو کسی نے شاید تحفے میں دی تھی اور مجھے وہ بہت پسند تھی کیونکہ اس کے ورق روغنی تھے اور ان پر  زیریں حاشیوں میں کارٹون نما کیڑے مکوڑے بھی بنے ہوئے تھے (کراٹین(یہ میں نے ابھی ابھی کارٹون کی جمع نکالی ہے) مجھے اب بھی پسند ہیں) اور سب سے بڑھ کر اس میں  ایک عدد چھوٹی سی “تالی” بھی لگتی تھی جو کہ “پرائویسی” کیلئے بہت ضروری ہوتی ہے۔  میرے بھائی کو اس ڈائری کے بارے میں اس وقت پتا چلا تھا جب مجھے کم از کم ایک سال ہو چکا تھا اس ڈائری کو کالا اور نیلا کرتے ہوئے!۔
میں نے ڈائری میں ہمیشہ شاعری ہی لکھی، کبھی کسی ڈائجسٹ سے دیکھ کر کبھی کسی میگزین سے دیکھ کر، کالج کے زمانہ میں لاہور کے فٹ پاتھوں سے کتابیں خرید کر بھی۔۔۔۔خود سے نثر کبھی نہ لکھ سکا، کئی دفعہ سوچا کہ لکھوں لیکن بے سود ہی رہا۔ پتا نہیں کون لوگ ہوتے ہیں جو اپنے روز کے معمولات ڈائریوں میں قلمبند کرتے ہیں، میرے شب و روز میں تو کوئی بات، کوئی واقعہ، کوئی قصہ ہی نہیں ہوتا تھا، بس گزر  ہی جاتا تھا دن، اور تو کچھ نہیں ہوتا تھا!
ایک دو دفعہ لکھنے کیلیے بیٹھا اور شروع بھی کیا: “میں آج صبح ساڑھے سات بجے اٹھا، باتھ روم گیا۔۔۔۔۔۔ سب کچھ کر کرا کے سکول چلا گیا۔ آٹھ پیریڈ کلاس میں یٹھا رہا۔ مِسیں اور سَر ور (یہ سَر کی جمع ہے: سَ+رُور ) آتے جاتے رہے۔ بیچ میں آدھا گھنٹا بریک بھی ہوئی جس میں میں نے سموسہ کھایا اور بوتل پی۔ کینٹین والے چاچا جی نے دو روپے بقایا دئیے۔ تھوڑا سی اچھل کود کی۔ گھر واپس آ گیا۔”
اب مجھے بتائیں کہ اس میں لکھنے والی کیا بات ہے۔۔۔ میرے خیال میں سکول کے سب بچوں نے یہی کیا ہوگا۔ لہٰذا صفحہ پھاڑ دیا ۔
کبھی کبھار جو شاعری نوٹ کر لیا کرتا تھا وہ بھی کالج میں  آکر تھوڑی کم ہوئی اور پھر یونیورسٹی میں بالکل ہی رہ گئی۔ حال ہی میں ایک نئی نکور ڈائری “پھانڈے” میں ملی تو  پھر سے سوچاہم بھی اپنے دن رات کی روداد لکھتے ہیں کہ کیا پتا ایک وقت ایسا آئے کہ لوگ میری ڈائری کو کتابی صورت میں چھاپ دیں اور  پھر درسی کتابوں میں میری خود نوشت سے اقتباسات شامل ہوں۔۔۔واہ واہ واہ۔۔۔۔ بس اسی‘ ممکنہ  ضرورت’ کے پیشِ نظر میں نے کچھ عرصے تک اپنی “مستقبل کی تاریخ “خود تخلیق کی پر اب وہ بھی بلاگ کی طرح کبھی کبھار پہ ہی چلی گئی ہے۔  ۔۔ چلو باقی کا کام کسی “پروفیشنل” ادیب شدیب سے لکھوا لیں گے۔
یہ ساری بات تو میری اصل تحریر کا پیش لفظ یا تمہید تھی، جو ایک پیراگراف سے بڑھتے بڑھتے لمبی ہو گئی۔۔ اصل میں میں اپنی ڈائریوں سے انتخاب لکھنا چاہ رہا تھا۔ اب الگ پوسٹ میں چھاپوں گا۔

Written by عمیر ملک

View all posts →

8 Comments

saadblog June 16, 2010 at 6:56 am
Reply

بالکل چھاپیں اقتباسات۔ آپ کے سنہرے خیالات جاننے کیلیے ہم بے تاب ہیں

جی جی ایسے ویسے بے تاب بہت ہی بیں۔جلدی جلدی چھا پئے

شازل June 16, 2010 at 6:12 pm
Reply

ہم منتظر ہیں

عین لام میم June 16, 2010 at 8:29 pm
Reply

شکریہ سبکا اتنا منتظر ہونے کا۔۔۔۔ ویسے ایسا کچھ نہیں ہے جس کا انتظار کریں آپ۔ :پ
اب مارنا نہ سارے مجھے بعد میں۔۔! :ڈ

عثمان June 16, 2010 at 9:57 pm
Reply

ڈائری اور بلاگ میں ایک فرق یہ ہے کہ آپ اپنی ڈائری پرائیویسی کی وجہ سے کسی کو دکھا نہیں سکتے. جبکہ بلاگ ہر کسی کو دکھایا جاسکتا ہے….تاآنکہ یہ کہ دیکھنے والا آپ سے حقیقی زندگی میں واقف نہ ہو. یہ بلاگ بھی ایک دلچسپ دنیا ہے. لوگ آپ کے بارے میں بہت کچھ جاننے کے باوجود بہت کچھ نہیں جانتے یا بہت کچھ نہ جاننے کے باوجود بہت کچھ جانتے ہیں.
کبھی ترنگ میں آیا تو اس پر لکھوں گا.

افتخار اجمل بھوپال June 17, 2010 at 12:01 pm
Reply

ڈائری ايک ايسا دوست ہے جو فارغ لمحوں ميں مددگار ثابت ہوتا ہے مگر اس کی قدر و قيمت بہت کم لوگ جانتے ہيں ۔ کچھ ميرے جيسے بھی ہوتے ہيں جن کی ساری پونجی يعنی ڈائری ان کی عدم موجودگی ميں ردی ميں بيچ دی جائے

عین لام میم June 17, 2010 at 8:26 pm
Reply

::عثمان:: صحیح کہا آپنے… پوسٹ کا انتظار رہے گا… 🙂
::افتخار صاحب:: شکریہ تشریف لانے کا.. یہ تو واقعی ظلم ہے.. میں کچھ خاص لکھتا تو نہیں ہوں ڈائری میں لیکن ردی کا تو تصور ہی خوفناک ہے!.. ہو سکتا ہے کبھی جلا دوں !! :پ

[…] دفعہ میں نے ذکر کیا تھا کہ مجھے بچپن سے ہی ڈائری لکھنے کا بہت شوق تھا۔ اور میں ڈائری میں مختلف رسالوں اور […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *