قدرت، معاشرہ اور صنفی امتیاز

عورت اور مرد میں صنف کی بنیاد پہ تفریق قدیم ترین انسانی معاشرے کی جڑ ہے۔ معاشرے کی بنیاد دونوں اجناس کے سوسائٹی میں رول ڈیفائن کرنے سے ہی شروع ہوئی یا یوں کہہ لیں کہ معاشرے میں دونوں کے الگ الگ رول ہی اس انسانی سوسائٹی کی بنیاد بنے۔ جس میں مادہ بچوں کی پیدائش کی وجہ سے، عارضی طور پہ ہی سہی لیکن شکار کرنے یا اپنی حفاظت کرنے کے قابل نہیں تھی۔ نر اپنی قوت بازو کے باعث شکار کیلئے باہر نکل سکتا تھا اور یوں جینڈر رولGender Role قدرت نے ڈیفائن کر دیے۔ مادہ پہ کسی بھی نوع کی بقا کا انحصارہوتا ہے اسلئے اسے خطرے میں ڈالنا نا مناسب تھا سو اس کے لئے گھر منتخب ہوا۔ حیاتیات کی رُو سے نر محض زندگی کی بقا میں استعمال ہونے والا ایک آلہ ہے، لہٰذا اسے خطرے میں ڈالنا اور باہر کی دنیا کے سپرد کرنا قابل فہم تھا۔
[مکمل تحریر پڑھیں]





آج ہم آپ کیلئے لے کر آئے ہیں ایک سدا بہار ڈش جو ہر موسم میں بے مثال اور بھرپور مزا دیتی ہے۔ جی ہاں، کانسپریسی پکوڑے۔ یوں تو مارکیٹ میں کئی طرح کے کانسپریسی پکوڑے بنے بنائے دستیاب ہوتے ہیں لیکن جو مزا تازہ اور ہاتھ کے ہاتھ بنے پکوڑوں کا ہے وہ کسی کا نہیں۔ کانسپریسی پکوڑوں کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ ان کو بنانے کیلئے آپ کوئی بھی موسمی یا بے موسمی خبر استعمال کر سکتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں مزا برقرار رہتا ہے۔ ہاں، ایک بات ہے کہ کانسپریسی پکوڑے بنا تو سب سکتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے بنائے ہوئے پکوڑوں میں جو مزا ہے وہ باقی تمام کو پھیکا بنا دیتا ہے۔