منزل

دنیا کی اس بھیڑ میں ملنے والا ہر شخص ایک چلتی پھرتی داستان ہوتا ہے۔ بندہ نکلتا مغرب کیلئے ہے اور قدرت اسے مشرق میں پہنچا دیتی ہے۔ بعض اوقات یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ کہاں جانا ہے اور کونسا راستہ صحیح ہے۔ لوگ ملکوں ملکوں کی خاک چھان کر کہیں سے کہیں پہنچ جاتے ہیں اور پھر تھک ہار کر اسی کو اپنی منزل قرار دے کر ٹھہر جاتے ہیں۔ انسان اپنے آپ کو تسلیاں ہی دیتا رہ جاتا ہے کہ ہاں، یہی تو میری منزل تھی!
شام کے ڈھلتے سورج کی پھیکی سی روشنی میں ماں کے آنسوؤں اور باپ کے پریشان چہرے سے نظر بچانے کیلئے کبھی اپنا سامان چیک کرتے ہیں، تو کبھی چھوٹے بہن بھائیوں کو نصیحتیں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ روز بات کروں گا تیرے سے ٹیلیفون پہ، پڑھائی ٹھیک سے کرنی ہے، رو کیوں رہی ہے، تیرے لئے کھلونے بھیجوں گا ناں۔۔۔۔۔۔ اگر کبھی کوئی ٹائم ٹریول کر کے واپس اس لمحے میں جا کر اپنی آوازیں سنے تو یقین نہ کرے کہ یہ سب کچھ کہا تھا میں نے، یہ سب کچھ چھوڑا تھا میں نے، اور کیا پانے کیلئے۔۔۔!۔
گھر کی دہلیز پار کرتے ہی اٹکے ہوئے آنسو بھی دہلیز پار کر جاتے ہیں۔ لیکن آنکھیں صاف کرتے ہوئے چند یاروں دوستوں کے ساتھ ایک دفعہ تو دماغ سے ہر نقش صاف کرکے صرف اور صرف راستے کا نقشہ تازہ کرتے ہیں۔ اور باقی کی ساری زندگی انہی تصویروں اور نقوش کو سوچ سوچ کر، کھرچ کھرچ کر اپنا اندر لہولہان کرتے رہتے ہیں۔

اے پتر ہٹان تے نئیں وکدے۔۔۔ جب بھی یہ نغمہ کانوں میں پڑا ہمیشہ خون میں ایک ابال محسوس کیا۔ جب پنجابی سمجھ آنا شروع ہوئی تو اس کے بول سن کے آنکھیں نم اور دھڑکنیں تیز بھی ہوئیں۔ سکول میں چھے ستمبر کی تقریبات میں حصہ بھی لیا، تقریریں بھی کیں، ٹیبلو بھی پیش کئے۔ آرمی پبلک سکول ہونے کے ناطے اکثر ستمبر کے مہینے میں عسکری نمائش بھی لگتی تھی، جس میں بچے ٹینک وغیرہ میں بیٹھ کر فوجی جوانوں کے ساتھ تصویریںبھی بنواتے تھے۔ میں نے بھی یہ شوق پورے کئے۔ پی ٹی وی پہ لگنے والی ٹیلی فلمیں بھی دیکھیں، ضلع گجرات اور گردونواح کے حصے میں نشان حیدر بھی ہیں اس لئے ہمیشہ اس طرح کی ٹیلی فلمیں دیکھ کر سینہ بھی چوڑا ہوتا ہوا محسوس ہوا۔

