اس تحریر پر 4 تبصرے کئے گئے ہیں


    1. بھائی آپ کی ہی یونیورسٹی نے یہ گُل کھلایا ہے۔ ہم تو بس اس کی خوشبو آگے بڑھا رہے ہیں۔:پ

      Reply

  1. بھینس کی نسبت تو ہمارے پاس کہنے کو کچھ خاص نہیں۔ یوں بھی کہنے والوں نے قلم توڑ دیا ہے۔ ہم تو بس وضو کر بیٹھے تو سوچا تبصرے کا کفر بھی توڑ ہی دیں۔
    نیچے تبصرہ چھوڑیے کا بٹن خوب ہے۔ تبصرے کا تبصرہ، ہوائی کی ہوائی۔ جزاک اللہ خیراً کثیرا۔

    Reply

تبصرہ کیجئے

بے فکر رہیں، ای میل ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ * نشان زدہ جگہیں پُر کرنا لازمی ہے۔ آپکا میری رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، لیکن رائے کے اظہار کیلئے شائستہ زبان، اعلیٰ کردار اور باوضو ہونا ضروری ہے!۔ p: