سانسوں کی مالا پہ
آج شہنشاہِ قوّالی استاد نصرت فتح علی خان کی 67ویں سالگرہ ہے۔ گوگل پاکستان کے ہوم پیج پہ ان کی یاد میں پہلی بار ڈُوڈل شایع کیا گیا ہے۔
میں اپنی زندگی میں کم ہی ایسے پاکستانیوں سے ملا ہوں، جنہیں نصرت فتح علی خان پسند نہ ہوں۔ بہت سے لوگوں کو قوالی پسند نہیں ہوتی لیکن جب قوال نصرت فتح علی خان ہو، تو شاید ہی کوئی نا پسند کر سکے۔ بچپن میں مجھے قوالی سے سخت چِڑ تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ جب بھی ٹی وی پہ قوالی نشر ہوتی تھی تو سمجھ جاتے تھے کہ کم از کم بھی آدھا گھنٹا تو کچھ اور نہیں لگے گا۔[مکمل تحریر پڑھیں]


اے پتر ہٹان تے نئیں وکدے۔۔۔ جب بھی یہ نغمہ کانوں میں پڑا ہمیشہ خون میں ایک ابال محسوس کیا۔ جب پنجابی سمجھ آنا شروع ہوئی تو اس کے بول سن کے آنکھیں نم اور دھڑکنیں تیز بھی ہوئیں۔ سکول میں چھے ستمبر کی تقریبات میں حصہ بھی لیا، تقریریں بھی کیں، ٹیبلو بھی پیش کئے۔ آرمی پبلک سکول ہونے کے ناطے اکثر ستمبر کے مہینے میں عسکری نمائش بھی لگتی تھی، جس میں بچے ٹینک وغیرہ میں بیٹھ کر فوجی جوانوں کے ساتھ تصویریںبھی بنواتے تھے۔ میں نے بھی یہ شوق پورے کئے۔ پی ٹی وی پہ لگنے والی ٹیلی فلمیں بھی دیکھیں، ضلع گجرات اور گردونواح کے حصے میں نشان حیدر بھی ہیں اس لئے ہمیشہ اس طرح کی ٹیلی فلمیں دیکھ کر سینہ بھی چوڑا ہوتا ہوا محسوس ہوا۔

