سانسوں کی مالا پہ
موسیقی کا شائق کبھی نہ کبھی ضرور استاد نصرت فتح علی خان کو تنہائی میں سن کر سوچوں کی وادی میں کھو جاتا ہے جہاں بیک گراؤنڈ میں سُر اور تال کے ساتھ ایک مصرع اس طرح محسوس ہوتا ہے جیسے گرم لوہے پہ چوٹ پڑتی رہے اور ساتھ ساتھ اس کو ٹھنڈا کرنے کیلئے پانی میں غوطے لگائے جائیں لیکن پھر وہی چوٹ کا سلسلہ اصل شکل کو گُم نہ ہونے دے بلکہ مزید پُختہ کرتا جائے۔
Written by