بڑے ہو کر کیا بنیں گے؟

عمیر ملک

January 8, 2012

Share Article

ارے، آپ کو تو این سی اے (NCA) میں جانا چاہیئے تھا!
یہ وہ جملہ ہے جو کالج میں اور کالج کے بعد یونیورسٹی میں ہمیشہ مجھے سننے کو ملا۔ وجہ؟ وجہ آپ کو میرے بلاگ کو دیکھ کر بھی اندازہ ہو رہا ہو گا۔ اس کے بیک گراؤنڈ امیج میں موجود تمام اسکیچ میں نے بقلم خود بنائے ہیں۔ فی الحال جو ہیڈر لگا ہوا ہے، وہ بھی پنسل اور کاغذ پہ ہی بنا تھا۔ اور ۔۔۔۔ میں ایک کمپیوٹر انجینئر ہوں!
جس مضمون میں مجھے لطف آتا ہے وہ پروگرامنگ ہے، کیونکہ کہنے والے کہتے ہیں ”کوڈ از پوئٹری“ (code is poetry) یعنی اس میں بھی جمالیات انوالو ہو ہی جاتی ہے۔
ایسا نہیں ہے کہ میرے گھر والوں نے مجھ پہ کسی قسم کی زبردستی کی تھی کہ مجھے کمپیوٹر انجینئر ہی بننا ہے بلکہ وہ تو اب بھی پوچھتے ہیں کہ ” یار، یہ کمپیوٹر انجینئر کرتا کیا ہے؟” یعنی نو آئیڈیا!
بس اسی نو آئیڈیے کی وجہ سے میں کمپیوٹر انجینئر ہوں۔ میٹرک میں بیالوجی پڑھی یعنی ڈاکٹر بننا تھا۔۔۔۔ انٹر میں ریاضی رکھ لی کیونکہ اس میں زیادہ نمبر آ گئے تھے۔۔۔۔ اور یونیورسٹی میں کمپیوٹر کیونکہ انٹری ٹیسٹ اچھا نہیں ہوا تھا! یہ ہے ہماری کیریئر پلاننگ۔
چلیں، مجھ سے تو پھر بچپن میں کوئی پوچھتا تھا کہ بڑے ہو کر کیا بننا ہے تو میں جھٹ کہہ دیا کرتا تھا کہ ”ڈاکٹر“ ۔۔۔ میرے ایک دوست کو یہ گلہ ہے کہ اس سے بچپن میں کبھی کسی نے پوچھا ہی نہیں کہ بیٹا بڑے ہو کر کیا بنو گے؟ سب یہی کہتے تھے کہ ”اے کُجھ کرے گا!“ لیکن ہوا اس کے برعکس یعنی ”کُجھ“ وی نئیں کر سکا ۔( فی الحال) ۔۔ 🙁
والدین سے کیا گلہ کریں، اگر وہ خود تعلیم یافتہ ہوتے یا کسی ایسے شعبے سے منسلک ہوتے تو ضرور راہنمائی کرتے۔ جو انہیں پتا تھا وہ انہوں نے بتایا اور اس کے علاوہ سب سے اہم کام یعنی سرمایہ مہیا کیا۔ سکول میں نمبر لینے سے فرصت ملتی تو اور کسی طرف دھیان جاتا۔ جو چار مضمون ہوتے ہیں ان میں سے 3 لازمی اور ایک میں کیا چوائس ہونی ہے۔۔۔۔ 500 بچے بیالوجی پڑھ کے میٹرک کرنے کی کوشش کرتے ہیں، 400 رہ جاتے ہیں اور 100 میں سے 50 کسی نہ کسی طرح انٹر میں بھی بیالوجی رکھ لیتے ہیں۔ باقی کے پچاس میں سے پچیس اضافی میتھس کا پرچہ دے کر پری انجینئرنگ میں شامل ہو جاتے ہیں۔ اور رہ گئے آخری پچیس، وہ ’کجھ‘ بھی نہیں کر پاتے۔ 🙁
یہ تو بات تھی سکول کی۔ کالج میں اس سے بھی زیادہ ’ب پلاننگ‘ منتظر ہے، جس طرف کی ہوا چلی، سب اسی طرف لڑھک گئے۔ 3 ایک کالج میں جا رہے تھے، ساتھ میں مزید 4 کو بھی گھسیٹ لیا۔ والدین بیچارے بھی کیا کریں، ان کے ساتھ ساتھ ان کے بچوں کو بھی نہیں معلوم کے کیا پڑھنا چاہیئے اور کیوں پڑھنا چاہیئے۔
کیریئر پلاننگ کے بارے میں لکھے گئے اس مضمون کے مطابق 50 فیصد بچے کا رجحان، 40 فیصد ملکی حالات و ضروریات اور 10 فیصد والدین کی خواہش کیریئر کے فیصلوں میں شامل ہونی چاہئیں۔ یہاں اس قسم کی تمام تحقیقیں دھری کی دھری ہی چھوڑ دی جاتی ہیں۔
اس مضمون کا بنیادہ مقصد جلی کٹی سنانا نہیں بلکہ یہ احساس ہے کہ زندگی کے نہایت اہم فیصلے کو جتنی اہمیت دی جاتی ہے وہ کم نہیں بلکہ ہے ہی نہیں۔
” جو مرضی پڑھ لو!“
اس میں نمبر نہیں آتے، سوچ لو!
سائینس ہی رکھنی چاہیئے۔ آرٹس تو نالائق پڑھتے ہیں۔
اس کا سکوپ ہے، اُس کا کوئی سکوپ نہیں۔

اس طرح کے جملوں سے کیا حوصلہ ملنا ہے بچوں کو۔ ان کو تھوڑا وقت دیں۔ ان کے سامنے آپشن رکھیں، تمام ضروری باتیں پوچھ کر بتائیں۔ مشورہ کریں۔
اس سلسلے میں تین لوگ ہیں جو اہم کردار ادا کر سکتے ہیں:
1۔ والدین
2۔ اساتذہ / ادارے
3۔ آپ!
باقی دو کا آپ کو پتا ہے، لیکن آپ کیا کر سکتے ہیں ان بچوں اور بڑوں کی مدد کیلئے جو ان مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔ آپ کسی بھی فیلڈ یا شعبے میں ہیں تو اس کے بارے میں اور اس سے ملتے جلتے شعبوں کے بارے میں اپنے قریبی دوستوں اور عزیزوں سے پوچھ کر معلومات دے سکتے ہیں بچوں کو۔ ان کی کیرئر کونسلنگ کر سکتے ہیں۔ اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے محلے میں یا اگر ممکن ہو تو کسی سکول میں جا کر بچوں کے ساتھ ایک سیشن رکھ سکتے ہیں ان معاملات کی طرف توجہ دلانے کیلئے، ان کے اساتذہ کے ساتھ مل کر اس بارے میں بات کر سکتے ہیں۔
آخر میں میں اس کُجھ نہ بن سکنے والے دوست کا شکریہ ادا کروں گا کہ یہ تحریر میں نے اس کے کہنے پہ ہی لکھی ہے ۔ اس کاخواب ہے کہ وہ دوسروں کو کچھ بنتا ہوا دیکھے۔ اور میرا یقین ہے کہ آج نہیں تو کل وہ کجھ نہ کجھ ضرور کر لےگا اور ضرور کامیاب ہوگا۔ 🙂

Written by عمیر ملک

View all posts →

21 Comments

یاسر خوامخواہ جاپانی January 8, 2012 at 4:55 am
Reply

مجھے تو یہ پڑھ کر عجیب محسوس ہو رہا ہے کہ آپ نے میٹرک میں صرف بیالوجی پڑھی۔۔۔
ہم نے تو میٹرک میں کیمسٹری ، بیالوجی ، فزکس ، میتھ اور سونے پہ سہاگہ انگریزی بھی کورس میں لازمی تھی۔۔۔کیا کراچی کا نصاب مختلف ہے؟
کسی ایک مضمون میں بچہ یکتا نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔لیکن جو لائق تھے وہ سب مضامین میں لائق ہوتے تھے۔

عمیر ملک Author January 8, 2012 at 12:54 pm
Reply

میں کراچی سے نہیں ہوں، لالہ موسیٰ ، ضلع گجرات سے ہوں۔ یہاں بھی یہ سب مضامین ہوتے ہیں لیکن چوائس صرف بیالوجی اور کمپیوٹر میں ہوتی ہے۔ اور جب میں نے میٹرک کیا اس وقت کمپیوٹر سائینس زیادہ عام نہیں تھا۔ باقی آرٹس تو نا لائق پڑھتے ہیں ناں!

احمد عرفان شفقت January 8, 2012 at 12:08 pm
Reply

ڈاکٹر بن جاو یا پھر انجینیئر۔۔۔آرٹس تو نالائق لوگ پڑھتے ہیں۔
میرا سکول کالج کا ٹائم تو یہ سننے میں ہی گذرا۔ عجیب سلسلہ ہو تا ہے یہ کیرئیر بنانے کا۔
اچھا یہ اردو ڈائجسٹ والا لنک کھل نہیں رہا۔http دو دفعہ آنے کی وجہ سے۔

عمیر ملک Author January 8, 2012 at 12:57 pm
Reply

جی بالکل ایسا ہی ہے۔ لنک درست کرتا ہوں ابھی۔

م بلال م January 8, 2012 at 5:32 pm
Reply

بہت زبردست تحریر ہے۔
جب ہم میٹرک میں تھے تب بھی کمپیوٹر عام نہیں تھا۔ خیر کالج میں زبردستی حیاتیات (بیالوجی) رہا دی گئی، ہم نے دس دن بعد تبدیلی کرتے ہوئے ریاضی اختیار کر لی کیونکہ جب دوسروں کو ریاضی پڑھتے دیکھتا تھا تو دل کو کچھ ہوتا تھا کیونکہ تب بھی اور آج تک بھی میٹرک میں ہم سے ”زیادہ“ نمبر ریاضی میں کسی نے نہیں لئے۔
خیر کیریئر کونسلنگ بہت ضروری اور اہم ہوتی ہے۔ ہمارے ہاں یہ سب نہ ہونے کی وجہ سے ریس کے گھوڑے ریڑھی کھینچ رہے ہیں اور گدھے گھوڑوں کی جگہ ریس دوڑ رہے ہیں۔
باقی آرٹس تو واقعی نالائق طالب علم پڑھتے ہیں جبھی تو ہماری معاشرت و سیاست کا جلوس نکل رہا ہے۔

عمیر ملک Author January 8, 2012 at 9:03 pm
Reply

آخری بات تو آپ نے صد فیصد درست فرمائی ہے۔ اگلا جلوس کوئٹہ میں! 🙂

احمد عرفان شفقت January 9, 2012 at 9:04 am
Reply

ریس کے گھوڑے ریڑھی کھینچ رہے ہیں اور گدھے گھوڑوں کی جگہ ریس دوڑ رہے ہیں۔۔۔۔

ز بردست بات کہی آپ نے بلال۔

عادل بھیا January 8, 2012 at 8:04 pm
Reply

بھیا آپکے کہنے پر بلاگ کے بیک گراونڈ میں لگی مورتوں کو دیکھ رہا ہوں۔ اور سوچ رہا ہوں۔۔۔۔ آپ کو تو این سی اے میں جانا چاہئیے تھا !!!

ویسے عمیر بھیا تحریر بہت اچھے عنوان پر اور نہایت خوب لکھی ہے۔ اَس معاملے میں میرے دِل میں بھی بہت سی بڑھاس ہے جسکو آج ایک پوسٹ کی صورت میں نکالنے کا جی چاہنے لگا ہے

عمیر ملک Author January 8, 2012 at 9:05 pm
Reply

نکالو جہ نکالو۔۔۔ لیکن صرف بھڑاس نہیں نکالنی۔ اس بارے میں لوگوں کو گائیڈ بھی کریں۔ پسندنے کا شکریہ

عبدالقدوس January 8, 2012 at 11:05 pm
Reply

یہ بندہ ضرور کچھ کرے گا اور کیا کچھ بھی نہیں
ایسا لگ رہا ہے آپکا وہ دوست میں ہوں

عمیر ملک Author January 9, 2012 at 12:18 pm
Reply

اس مضمون میں استعمال تمام ‘دوست’ فرضی ہیں اور کسی قسم کی مماثلت کا ذمہ دار ادارہ نہ ہو گا۔۔۔! 🙂

اس مےں‌کچھ خاص نہےں ہے اور بہت کےا جاسکتاتھا۔

فرحان April 26, 2012 at 3:13 pm
Reply

بہت خوب، مزا آگیا یہ تحریر پڑھ کے!!
میٹرک میں‌بائیو تھی؛ کمپیوٹر کی چوائس تھی مگرکمپیوٹر ٹیچر کوئی نہیں‌تھا؛ شوق کمپیوٹر کا تھا مگر میٹرک میں‌بائیو سو ایف ایس سی میں‌بھی بائیو۔۔۔
میڈیکل کالج میں‌داخلہ نہ ملا، بسس اب تو کمپیوٹر ہی پڑھنا ہے ۔۔۔
اب سوچتا ہوں‌‌ پڑھائی جوئے کے سٹائل میں‌کی ہے۔۔۔ (:

Haseeb May 26, 2012 at 2:57 am
Reply

بہت زبر دست تحریر ہے۔

وحید January 19, 2013 at 8:12 am
Reply

بہت اعلیٰ مضمون۔۔ ویسے ایک اور چیز کا اضافہ کیا جا سکتا تھا کہ کچھ بچے ڈاکٹر بننے کے شوق میں میٹرک میں بیالوجی رکھتے ہیں، لیکن پہلے ہی مہینے بیالوجی کے ٹیچر یہ کہ کر انہیں کلاس سے نکال دیتے ہیں کہ وہ بیالوجی نہیں پڑھ سکتے، اور پھر ان بچوں کو ‘آئی سی ایس ‘ کی کلاس میں بھیج دیا جاتا ہے۔ (یعنی کہ بیالوجی سے شارٹ لسٹ کر دیا جاتا ہے) ط:

عمیر ملک Author January 19, 2013 at 6:44 pm
Reply

سر جی، بہت شکریہ پسند کرنے کا۔
اب سب اپنی اپنی داستان بتا رہے ہیں۔۔۔ بیالوجی پڑھ لیتے تو انسانوں کے ڈاکٹر بن جاتے ، اب کمپیوٹر سائینس کے ہیں۔۔!

ثاقب January 19, 2013 at 11:29 am
Reply

میرے بھائی عمیر لطیف نے بڑے اچھے موضوع کی جانب توجہ دلائی ہے۔ میں بھی ایک انجینیئر ہوں اور تدریس کے شعبہ سے تعلق رکھتا ہوں۔ میں اپنے طلبہ کو ہمیشہ یہی باور کروتا ہوں ک نالائق اور لائق جیسی کوئی چیز نہیں ہوتی۔ یہاں پر والدین کا قصور زیادہ بنتا ہے۔ جاہے وہ پڑہے لکھے نہیں بھی ہیں مگر انہیں اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر کسی استاد سے مشورہ زرور کرنا چاہیے۔ اگر وہ خود پرہے لکھے نہیں‌ہیں تو۔ اللہ کے فضل و کرم سے آج وہ دن بھی آگیا جب میں بھی اپنے طلبہ کی کونسلگ کرتا ہوں۔ جہاں تک ممکن ہو سکے۔ تا کہ کو ئی کل کو یہ نہ کہ سکے کہ کسی نےکچھ بتا یا ہی نہیں کہ کیا بننا ہے۔ اور ان کے زہن سے یہ نالایئق اور لائق کے تفرقے کہ ختم کرنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اور ساتھ یہ بھی تصیحت کرتا ہوں کہ زندگی صرف اچھے نمبر حاصل کرنے کا نام نہیں۔ یہ اس سے بہت بڑھ کر ہے۔

عمیر ملک Author January 19, 2013 at 6:43 pm
Reply

ہم تو شروع سے ہی کہتے آئے ہیں۔۔ یہ نمبر شمبر کچھ نہیں ہوتے۔۔ ط:
بہت شکریہ تبصرہ کرنے کا۔

maha January 20, 2013 at 1:35 am
Reply

زندگی سے یھی گلا ھے مجھے
کوی راھنئما نھی ملا ھے مجھے
plz jis sy jitna ho sakay wo is maamlay main bachon ko gauid karain, main nai chahti k kal ko koi zindgi say ya gila kray

عمیر ملک January 20, 2013 at 1:41 am
Reply

یہ ہمارا اور آپ کا، سب کا کام ہے۔

عبدالناصر عطاری November 2, 2016 at 4:15 pm
Reply

عمیر بهائی
خوبصورت باتیں لکهی ہیں آب بیتی
بهی اور راہنمائ بهی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *