بچے جمورے کی ’وِکی لیکس‘

عمیر ملک

July 30, 2010

Share Article

بچہ جمورا؟
جی استاد!
آنکھیں بند؟
جی استاد!
کیا دیکھا؟
سب کچھ استاد!
بول دے!
نہیں استاد۔۔۔۔
کیوں بچہ جمورا؟
پھوٹ جائے گا۔۔۔
کیا؟
پھانڈا۔۔۔۔۔؟
کس کا؟
سب کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں، سب کا پھانڈا پھوٹ گیا ہے (کچھ پھانڈے تو تقریباٌپھوٹے ہی پڑے تھے) پانچ دن پہلے شایع ہونے والی خفیہ دستاویزات جو کہ افغان وار ڈائری یا دی وار لاگز کے نام سے منظرِ عام پہ لائی گی ہیں۔ سویڈن میں قائم ایک بین الاقوامی آرگنائزیشن ’وِکی لیکس‘Wikileaks نے 25 جولائی 2010ء کو نمایاں اخبارات The Guardian, New York Times اور DerSpiegel سمیت اپنی ویب سائٹ پر لگ بھگ 91 ہزار دستاویزات کا ایک مجموعہ شایع کیا جس میں جنوری 2004ء سے دسمبر 2009ء تک کی افغان جنگ کی روگزاشت موجود ہے۔ دستاویزات جو کہ ‘secret’ کیٹیگری میں آتی ہیں، مختلف فوجی اور ایجنسیوں کے افسران کی لکھی ہوئی ہیں۔ جن میں امریکی فوج کے ’جنگی جرائم‘، انٹیلیجنس معلومات اور مختلف سیاسی ملاقاتوں اور اسی طرح کی دوسری ’وارداتوں‘ کے احوال درج ہیں۔ بقول وِکی لیکس انتظامیہ کے ابھی تقریباٌ 15000 دستاویزات کی اشاعت روک دی گئی ہے تا کہ متوقع ’تقصان‘ کم سے کم کیا جا سکے۔

ارود وی او اے کے مطابق:

وکی لیکس کے منتظمین اپنے ادارے کے مقاصد کے بارے میں کہتے ہیں کہ وہ لوگوں یا اداروں کی جانب سے فراہم کردہ خفیہ معلومات، پوشیدہ رکھی جانے والی یا حساس دستاویزات ان کے نام پوشیدہ رکھتے ہوئے ، منظر عام پر لانے کا کام کرتے ہیں۔

وکی لیکس کی یہ ’لیک‘ اب تک کی جنگی تاریخ کی سب سے بڑی لیک قرار دی جا رہی ہے جبکہ جنگ ابھی بھی جاری ہے۔ جہاں ان دستاویزات سے امریکہ کیلئے کئی سوالیہ نشان اٹھائے گئے وہیں اس میں پاکستان کے اعلیٰ حکام کی القائدہ اور طالبان سے ملاقاتوں اور ان کی طرف سے طالبان کی حمایت بھی ان میں بیان کی گئی ہے۔ جہاں تک ان دستاویزات کی تصدیق کا تعلق ہے تو اس کی کوئی گارنٹی نہیں اور فراہم کرنے والے کا نام ظاہر نہیں کیا جاتا۔ لیکن وکی لیکس کے مطابق ان کے پاس ایسے کئی رضا کار ہیں جو کئی ممالک میں ان کیلئے دستاویزات اور خبروں کی تصدیق کا کام سر انجام دیتے ہیں۔
وکیپیڈیا کے مطابق ان دستاویزات میں سینکڑوں کی تعداد میں ہونے والی سویلین ہلاکتوں کا انکشاف کیا گیا ہے جو امریکی فوج نے افغان جنگ کے دوران کیں۔ جن میں شہری آبادی پر فضائی حملوں سے لیکر غیر مسلح عوام پر بے دریغ گولیاں برسانے کے انکشافات کئے گئے ہیں۔ دستاویزات میں کئی غیر شایع شدہ یا جانبدارانہ انداز میں لکھی گئی ملٹری رپورٹس کا بھی ذکر ہے۔
پاکستان کی آئی ایس آئی کے سابق چیف حمید گل کی طالبان سے ملاقاتوں اور ان کی طالبان کی حمایت کی رپورٹس پاک-امریکہ تعالقات پہ سوالیہ نشان بن گئے ہیں۔ (جنہیں اوبامہ حکومت نے ان الفاظ میں رد کر دیا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ ہوتا ہے سچا پیار!)
ایران اور شمالی کوریا کو بھی اس لیک میں رگڑا گیا ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق فی الحال ان دستاویزات میں اور امریکی فوج کی سرکاری دستاویزات میں کوئی نمایاں فرق نہیں پایا جاتا، ہاں، بعض رپورٹس میں سرکاری اعداد و شمار مشکوک نظر آتے ہیں۔

(یہ مضمون لکھنے کا بنیادی مقصد یہ بتانا ہے کہ میں نے آج ہی اس بارے میں پڑھا ہے 🙂 ۔ اور سوچا کہ چلو بلاگ کی نذر بھی کر دوں۔ )

Written by عمیر ملک

View all posts →

16 Comments

یاسرخوامخواہ جاپانی July 30, 2010 at 12:32 pm
Reply

ہم تو بہت پہلے پڑھے چکے تھے۔لیکن کچھ حیرت نہیں ہوئی تھی۔ ہمیں پہلے ہی اندازہ تھا کہ ایسا ہی ھو تا ھے۔ایسے کاموں میں۔بحرحال اس سے ایک بات کا پتہ چلا کہ ہمارے اندازے پکے ہوتے ہیں اور ہم بڑی پہنچی ہوئی چیز ہیں۔

عین لام میم July 30, 2010 at 1:41 pm
Reply

یہ تحریر کے شروع والا بچہ جمورا آپ ہی تو ہیں۔۔۔۔۔ 🙂

عادل بھیا September 17, 2011 at 11:47 am
Reply

ہاہاہا

عنیقہ ناز July 30, 2010 at 12:59 pm
Reply

میں نے بھی کچھ عرصہ پہلے پڑھا تھا اور ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اس پہ لکھوں کہ آپ نے لکھ دیا۔ آپکا کیا خیال ہے اس وقت یہ چیز کیوں منظر عام پہ آئ۔

عین لام میم July 30, 2010 at 2:01 pm
Reply

شکریہ عنیقہ
وجوہات تو اللہ ہی جانتا ہے یا لیک کرنے والے۔۔۔۔۔۔۔ مجھے تو اس میں بھی ’ڈو مور‘ کی بو آ رہی ہے۔۔۔۔ انہیں جو بھی مسائل کا سامنا کرنا پڑا اس سے بر عکس، ہمیں یہ ضرور کرنا ہو گا۔۔۔۔۔۔ باقی حکومتاں دی گل تے حکومتاں ای جاندیاں نے جی!

عادل بھیا July 30, 2010 at 1:29 pm
Reply

ہممم۔۔۔ اچھا کیا جو آپنے بلاگ کی نظر ہی خبر کر دی۔۔۔ ویسے یہ خبر پڑھ کر مجھے بھی کوئی حیرت نہیں ہوئی تھی۔۔۔ اپنے معاشرے میں پہلے ہی ایسی باتیں کافی مرتبہ سننے کو مل چکی ہیں۔
عمیر بھیا میرا بلاگ بھی اپنے روابط میں شامل کرنے کا شکریہ۔ میں نے ابھی دیکھا۔

عین لام میم July 30, 2010 at 2:05 pm
Reply

جی اس میں شکریے کی کیا بات ہے۔ یہ تو جی ’ورتن‘ ہوتی ہے!!

افتخار اجمل بھوپال July 30, 2010 at 1:45 pm
Reply

اچھا کيا آپ اسے بلاگستان پر لے آئے ۔ ميں نے وکی ليکس کی ويب سائٹ اتفاق سے 25 جولائی کو ہی پڑھی تھی ۔ ايسی خفيہ معلومات بعض اوقات کوئی اہلکار بيچ ديتا ہے ليکن عام طور پر امريکی حکومت خود اسے ظاہر کرتی ہے جس کے دو مقاصد ہوتے ہيں
ايک ۔ کسی حکومت کو دباؤ ميں لانا يا اس کے خلاف کاروائی کا جواز پيدا کرنا
دو ۔ مخالفين کا ردِ عمل ديکھنا کہ مزيد ويسی يا سخت کاروائی ميں امريکا کو کيا دشواری پيش آنے کا انديشہ ہو سکتا ہے

گاہے بگاہے ايسی معلومات کا افشاء امريکی ڈيفنس سٹريٹيجی کا حصہ ہے

ميرے تجربہ کے مطابق ان معلومات کا افشاء بڑی بات نہيں ہے بلکہ ديکھنا يہ ہے کہ اس سے امريکا کيا حاصل کرنا چاہتا ہے ؟ ہماری حکومت کا ردِ عمل شديد ہونا چاہيئے تھا اور ساتھ ہی سوال اُٹھانا چاہيئے تھا کہ امريکا کے بڑی تعداد ميں عام شہريوں کو بلاجواز ہلاک کرنے کی وجہ سے پاکستان پچھلے پانچ سال سےدہشتگردی کا شکار ہے اور اربوں ڈالز کا نقصان اُٹھا چکا ہے مگر ہمارے حکمران زرخريد غلام ہيں امريکا کے اسلئے اونچا بولنے سے ڈرتے ہيں ۔
ايک بہت اچھا موقع جو امريکا نے اتفاق سے مہياء کيا تھا ہمارے حکمرانوں نے گنوا ديا ہے

[…] This post was mentioned on Twitter by Urdu Blogz, Umair Malik. Umair Malik said: بچے جمورے کی ’وِکی لیکس‘: بچہ جمورا؟ جی استاد! آنکھیں بند؟ جی استاد! کیا دیکھا؟ سب کچھ استاد… http://goo.gl/fb/ssrd7 […]

طالوت July 30, 2010 at 4:29 pm
Reply

میں افتخار اجمل بھوپال کی رائے سے متفق ہوں ۔
وسلام

عین لام میم July 30, 2010 at 4:46 pm
Reply

بلاگ پر خوش آمدید طالوت

شازل July 30, 2010 at 6:26 pm
Reply

وکی لیکس پر شائع ہونے والی رپورٹس مشکوک ہیں

عین لام میم July 30, 2010 at 9:30 pm
Reply

جی ہاں مجھے بھی آپ کی بات سے تقریباً اتفاق ہے۔۔۔۔
لیکن بہرحال اس طرح کی چیزیں عوام میں مقبول تو ہوتی ہیں۔۔۔۔

عثمان July 31, 2010 at 1:59 am
Reply

اکانوے ہزار صفحات تو بہت ذیادہ ہیں۔ یہ امریکی فوج کیا افغانستان میں‌بلاگنگ کر رہی ہے 🙂

باقی اس وکی لیکس سے مجھے بھی بہت خطرہ ہے۔ کسی دن یہ میرے بلاگ کے پوسٹ ڈرافٹ نہ شائع کردیں۔

عین لام میم July 31, 2010 at 2:27 am
Reply

ابھی تو پندرہ ہزار روک بھی دی ہیں۔۔۔۔۔
اگر تمہاری ڈرافٹ پوسٹیں لیک کر دیں تو پھر تمہیں بھی ’ڈو مور‘ کرنا پڑے گا۔۔۔۔ آتا ہے ناں یہ؟

[…] پہ آپ کیسے ہی فورم پہ کیوں نہ ہوں، کوئی نہ کوئی متعلقہ وکی لیک نظر آ ہی جاتی ہے۔ حالیہ وکی لیکس  کی اہم اہم اور ضروری […]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *