اس تحریر پر 5 تبصرے کئے گئے ہیں


  1. بالکل صحیح کہا یار
    پر ہم لوگ دوسروں کی بات سننا ہی گوارا نہیں کرتے
    سمجھنا تودور کی بات ہے
    ہے ناں؟

    Reply
  2. Yasir

    جعفر صاحب ایک دوسری جگہ ٹھیک فرماتے ہیں۔
    ایسی تحاریر کو کوئی منہ ہی نہ لگائے تو لکھنے والے صاحب کو خود ہی ہوش آ جائے گا۔

    Reply

  3. *عثمان نامہ: بلاگ پہ خوش آمدید۔۔
    *ڈفر: جی ہاں!
    بات یہ ہے کہ فیر اس بلاگ شلاگ کے چکر میں پڑنے کی ہی کیا ضرورت ہے، جب سننی ہی نہیں تو۔۔۔ "منجمد صفحات" بنائیں، لوگ پڑھیں، گالیاں دل ہی دل میں دیں اور کلوز پہ کلک مار دیں۔۔بس!
    ایک اور بات۔۔۔ بات کرنے کا انداز ایسا ہو کہ اگلا سننے پہ مجبور ہو۔۔لٹھ مار انداز پہ تو بندے نے تپنا ہی ہے ناں جی۔۔!
    *یاسر صاحب: ہاں، یہ بھی ایک اچھا حل ہے۔۔

    Reply

عین لام میم کو جواب دیں جواب ترک کریں

بے فکر رہیں، ای میل ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ * نشان زدہ جگہیں پُر کرنا لازمی ہے۔ آپکا میری رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، لیکن رائے کے اظہار کیلئے شائستہ زبان، اعلیٰ کردار اور باوضو ہونا ضروری ہے!۔ p: