وہ ہاتھ آئی-ایس-آئی کا

ISI Tattoo “جو بھی ہوتا ہے اس کے پیچھے آئی ایس آئی کا ہاتھ ہوتا ہے” ۔ اب پتا چلا یہ کس ہاتھ کی بات ہو رہی تھی۔ اگر آئی ایس آئی والا ہاتھ نہ ہوتا تو پھر کیا ہوتا!؟۔
اس پھر کا پتا لگانے کیلئے رخ کرتے ہیں ‘جناب ملوانا مفت-ہی صاحب’ سے، جی مفت ہی صاحب آپ ہاتھ کے پیچھے والے ‘حالات’ کے بارے میں کیا کہنا چاہیں گے؟
دیکھیں جی، اپنی عزت اپنے ہاتھ میں ہوتی ہے اور حالات کے پیچھے اور آلات کے آگے والے ہاتھ کے ہاتھ میں جو عزت ہوتی ہے وہ نظریں جھکانے اور ‘انگلیاں’ اٹھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

کیا ان معاملات کا ملکی مفاد اور حساس اداروں سے کوئی تعلق ہے؟ یہ پوچھتے ہیں جناب گبر سنگھ صاحب سے۔۔۔ جی سنگھ جی! کیا کہیں گے آپ؟
وہی بات جو آج سے کئی برس پہلے کہی تھی۔۔۔۔ ” یہ ہاتھ مجھے دے دے ٹھاکر” ۔ اگر میری بات اس وقت مان لی ہوتی تو نہ وہ ہاتھ ہوتا اور نہ ہی آئی ایس آئی ان نازک معاملات کو چھپانے میں ملوث قرار پاتی۔ ویسے ہم نے اہم سراغ لگا لئے ہیں اور ہاتھ پہ لگے کیوٹیکس سے پتا لگتا ہے کہ ہاتھ آئی ایس آئی کا نہیں۔

آئیے اب ہم بات کرتے ہیں ملک کی اس مایہ ناز و مشہورِ عالم ‘ایکس- ٹریس’ سے جو ماضی میں بھی کئی ایک شعبہ ہائے زندگی میں اپنی خدمات کا اعتراف اپنے ہی منہ سے کر چکی ہیں۔ جی V صاحبہ! کیا کہیں گی آپ اس سارے ہنودی پراپیگنڈے کے بارے میں؟
بہت شکریہ اینکر بھائی آپ کا کہ آپ نے مجھ ‘انوسینٹنی’ کو یہاں دعوت دی تا کہ میں آ کر ان تمام سازشیوں‌کو ننگا کر دوں اور پھر میں دیکھوں گی کہ کون کون سی ایجنسی آ کر ان کے حالات و آلات کو نہ صرف چھپاتی ہے بلکہ خوشنما پھولدار و دھاری دار لباسوں میں ملفوف کرتی ہے۔ میں پوچھنا چاہتی ہوں ان مفت ہی صاحب سے کہ وہ چاہتے کیا ہیں؟ آخر میں نے ایسا کیا ہی کیا ہے؟ آج آپ سب کو میری ان ‘پوّتر’ عکس بندیوں میں کیڑے نظر آ رہے ہیں، اس وقت آپ کہاں تھے جب میں برقعہ پہن کر فوٹو شاپ کروا رہی تھی۔۔۔ کہاں تھے گبر سنگھ جی اس وقت جب میں نے تین تین گھنٹے کی فلموں میں دو وقت کی ‘پاؤ بھاجی’ کیلئے صرف ایک گانا کیا تھا۔۔۔۔ اس وقت آپ کا وہ ‘ضمیر’ کہاں سو گیا تھا جب میں نے کرکٹر کے چھکے چھڑانے کیلئے کئی بالز اچھالی تھیں۔۔۔کہاں مر گئے تھے آپ جب آپ کی یہ مسوم ایکس ٹریس اپنے ملک کی ‘مساجی تنظیموں’ کی فری مشوری کیلئے بگ بینگ کر رہی تھی۔۔۔۔۔ آپ کو میری آنکھوں سے برستی یہ برسات نظر آ رہی اب، لیکن میرے تن پہ موجود وہ ‘اِن ویزیبل’ کپڑے نظر نہیں آ ئے۔۔۔ آخر کیوں!۔

دیکھئے V صاحبہ، آپ رونا اور دھونا بند کیجئے پلیز۔۔۔ ہم نے آپ کا مقدمہ عوام کے بستر تک پہنچا دیا ہے، اب وہ ہی فیصلہ کریں گے کہ کیا یہ پبلسٹی سٹنٹ کام کر گیا یا ایک انوسینٹنی کے غیر انوسینٹ جذبات کو بھڑکایا گیا ہے یا پھر میگزین کھلنے کی منتظر ہے نگاہ!۔

وہ ہاتھ آئی-ایس-آئی کا” پر تبصرے کیے گئے: 16

  1. پنگ بیک: وہ ہاتھ آئی-ایس-آئی کا | Tea Break

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

You may use these HTML tags and attributes: <a href="" title=""> <abbr title=""> <acronym title=""> <b> <blockquote cite=""> <cite> <code> <del datetime=""> <em> <i> <q cite=""> <strike> <strong>