ایک بار پھر۔۔

ایک طویل عرصے کے بعد انگلیوں سے اردو پھسل رہی ہے۔ میرے بلاگ پہ موجود گنتی کی تحاریر میں کوئی ڈیڑھ درجن تو انہی الفاظ سے شروع ہوتی ہیں ” بہت عرصے بعد، کافی دن بعد، کئی ماہ بعد، ایک سال بعد، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔“ اصل میں مَیں اور مجھ جیسے کئی اور اردو بلاگر پارٹ ٹائم بلاگروں کی فہرست میں بھی نہیں فٹ آ سکتے، میں جتنی مرضی کوشش کر لوں تب بھی سال میں کم از کم 6 مہینے میرا بلاگ ”ہائبرنیشن“ (Hibernation) میں گزار دیتا ہے۔ اور جیسے ہی کوئی برساتی یا ترساتی ( برسنا کے برمحل لفظ ترسنا سے ترساتی) موسم آتا ہے تو ڈڈوؤں کی طرح انگلیاں کی بورڈ پہ پھدکنے لگتی ہیں۔ حروف کے انڈوں میں سے الفاظ کے ہزاروں ”ٹیڈ پول“ (Tadpoles) جنم لیتے ہیں لیکن ان ہزاروں میں سے چند سو ہی بلاگ کے کنارے پہنچ کر تحریر کی شکل میں جوان ہوتے ہیں۔
ہمیشہ کی طرح ذہن پھدکتے ہوئے کہیں اور نکل گیا۔ بتانا تو یہ مقصود تھا کہ اس طویل غیر حاضری کی وجہ کوئی مصروفیت وغیرہ نہیں بلکہ ویلا پن تھا۔ میں اتنا ویلا تھا کہ بہٹھ کے کچھ لکھنے پڑھنے کا ٹائم ہی نہیں تھا۔ اب جبکہ سب کچھ اپنی مخصوص ڈگر پہ رواں ہو چلا ہے، میں کافی حد تک مصروف ہو گیا ہوں، پڑھائی شروع کر لی ہے، روٹین بن گئی ہے، تو اب میں خاص طور پہ آپ لوگوں کیلئے اپنے قیمتی اور مصروف ٹائم میں سے “وقت” نکال کر لکھنے بیٹھا ہوں۔ ایسا کرنے کے بہت سے فوائد ہیں مثلا سب سے بڑا فائدہ تو یہ ہے کہ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب کچھ نہیں ملا تو بلاگنگ شروع کر دی!!۔
آپ میں کچھ فیس بکی قارئین آلریڈی جانتے ہوں گے کہ میں بھی اب ”ایکسپیٹریئیٹ “ لوگوں میں شامل ہو چکا ہوں، جیسا کہ اکثر اردو بلاگر ہوتے ہیں۔ وفاقی جمہوریہ جرمنی سے یہ میری پہلی تحریر ہے۔ میں یہاں ‘اعلیٰ تعلیم’ کے حصول کیلئے تشریف لایا ہوں۔ مجھے یہاں آئے ایک ماہ ہونے کو ہے۔ بڑے بڑے بلاگرز کی طرح میں بھی اپنا ” سفرنامہ“ جلد ہی شایع کروں گا۔ :)

اس تحریر پر 17 تبصرے کئے گئے ہیں


  1. ارے!!!!!
    کتھے مہر علی کتھے میری ثنا
    حضور یہ تو اتفاق سے بڑے پر کلک کر دیا جناب والا ہم جمعہ جمعہ آٹھ روزہ بلاگر چھوٹے ہی اچھے ۔
    گناہ گار نہ کریں۔

    Reply

    1. آپ کسر نفسی سے کام لیں یا نہ لیں۔ سفرنامہ تو اب آپ لکھ بیٹھے ہیں۔ دوسرے صاحب جن کا سفرنامہء جرمنی میں پڑھ رہا تھا ان کا نام مجھے یاد نہیں آیا۔۔۔۔

      Reply

  2. یہ بھی ایک عجیب اتفاق ہے کہ بڑے ہی عرصے بعد کسی اوردو بلاگ پر کمنٹ کرنے کو جی چاہا۔ ماشا ء اللہ سے سارے ہی اپنی تحریر میں‌ اتنا دم خم دکھا جاتے ہیں‌کہ فیر تبصرے کو ہمت نی پڑتی۔

    سوچا جب آپ نے چُپ کا روزہ توڑا تو فیر میں‌وی توڑ دوں۔ ہیں‌جی؟؟

    Reply

    1. جناب آپ کی بڑی نوازش ہے۔ آپ بھی دم خم دکھایا کریں، اور رکھا کیا ہے چار دن کے انٹرنیٹ میں۔۔۔
      اب میں اور آپ مل کر خاموشی کا بائیکاٹ کریں گے۔ ط:

      Reply

  3. پیار اور معصوم سا لکھا ہے۔ سڑیل اور کُھنڈ بلاگروں کے بیچ تازہ بلاگی جھونکا ہے یہ۔

    Reply

    1. لگتا ہے بلاگستان میں کوئی حالیہ گھمسان کا رن پڑا ہے۔۔۔ ؟تعریف کا بہت شکریہ۔

      Reply

  4. لو جی ملک صاحب ’جانو جرمن‘ بن گئے۔ مجھے انتظار رہے گا کہ آپ ہماری جرمنی کے بارے میں معلومات میں کتنا اضافہ کرتے رہیں۔ جیتے رہیے :)

    Reply

  5. میرا بھی یہی حال ہے جناب۔ ویسے آپ جس طرح دھوم دھام سے بلاگستان میں وارد ہوئے تھے اور جس طرح ابتداء میں آپ نے بلاگر پر اپنا بلاگ بنانے کی تگ و دو کی تھی اور پھر آپ کے لکھنے کا اپنا انوکھا انداز اس سے تو یہی لگ رہا تھا بلاگستان کو ایک اور بلاگر مل گیا ہے۔

    میرے خیال میں ہمارے ساتھ مسلئہ یہ ہے کہ ہم سوچتے بہت ہیں اور ایک ذاتی بلاگ کے لیے لکھتے ہوئے اگر آپ سوچیں گے کہ کیا لکھنا ہے تو سمجھیئے آپ نے اپنے تخلیقی کیڑے کو خود زہر دے کر ماردیا۔

    ایک بار پھر بلاگ کی دنیا میں قدم رکھنے پر مبارک ہو۔

    Reply

    1. شکریہ جناب۔ بس ایسا ہی کچھ ہے۔ بلاگستان کو کیا بلاگر ملنا ہے، ہمیں بلاگستان مل گیا۔۔۔

      Reply
  6. حجاب

    بہت دن بعد کچھ اچھا پڑھنے کو ملا ۔۔ ویلے رہ کے دماغ اتنا چلتا ہے واہ ۔۔۔۔۔۔ امید ہے لکھتے رہیں گے ویسے بلاگستان میں کافی عرصے سے کوئی گھمسان کارن نہیں پڑا بے لطف پڑی ہے بلاگی دنیا ۔۔

    Reply

    1. بہت شکریہ۔
      بلاگستان کی بے لطفی کا فائدہ مجھ جیسے لوگوں کو مل گیا۔ سب ہی تعریف کر رہے ہیں۔ سب کا بہت شکریہ۔۔۔ ط:

      Reply

  7. عمیر بھیا آپکی کوئی بھی تحریر دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ معزرت کے لیٹ ہوگیا۔۔۔ یہ جو نیا لارا لگا گئے آپ اِس تحریر میں اُسکا انتظار رہے گا

    Reply

عادل بھیا کو جواب دیں جواب ترک کریں

بے فکر رہیں، ای میل ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ * نشان زدہ جگہیں پُر کرنا لازمی ہے۔ آپکا میری رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں، لیکن رائے کے اظہار کیلئے شائستہ زبان، اعلیٰ کردار اور باوضو ہونا ضروری ہے!۔ p: